تنازع میں حزب اللہ کی مداخلت لبنان کے لیے بدقسمتی کا باعث بنے گی: فرانسیسی ایوان صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس کے ایون صدر کے ایک ذریعے نے تصدیق کی کہ پیرس نے لبنان کو پیغامات بھیجے جس میں کہا گیا تھا کہ حزب اللہ کو خطرہ مول لینے سے گریز کرنا چاہیے۔ ذرائع نے العربیہ/الحدث کو وضاحت کی کہ حزب اللہ کی تنازع میں کسی بھی قسم کی مداخلت لبنان کے لیے صرف بدقسمتی کا باعث بنے گی۔

ذرائع نے کہا کہ "ہم لبنان کو پیغام دے رہے ہیں کہ حزب اللہ کو کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہیے۔حزب اللہ کو صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ کھیل کے اصولوں کا احترام کرتی ہے، بلکہ اسے اسرائیل اور غزہ کے درمیان تنازع میں کبھی مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ یہ مداخلت صرف لبنان کے لیے بدقسمتی کا باعث بنے گی۔

انہوں نے میکرون کے دورہ لبنان کے امکان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ "یہ دورہ خارج ازامکان نہیں ہے لیکن اب اس کا پروگرام نہیں ہے"۔

میکرون اسرائیل میں

ایلیسی نے پیر کے روز اعلان کیا کہ فرانسیسی صدر عمانوئل میکرون منگل کو اسرائیل میں "ایک موثر امن عمل کی بحالی" کے لیے فون کریں گے جو اسرائیل کی ریاست کے ساتھ ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنے کی ضرورت پر زور دے گا۔ اس میں وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاری کی سرگرمیوں کے خاتمے کی بات کریں گے۔

غزہ کی پٹی کی سرحد پر اسرائیلی فوج
غزہ کی پٹی کی سرحد پر اسرائیلی فوج

فرانسیسی ایوان صدر نے کہا کہ "فائدہ حاصل کرنے کا واحد راستہ، پہلے اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا، دوسرا دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح اقدامات کا اعلان کرنا اور تیسرا سیاسی افق کو دوبارہ کھولنا ہے"۔

"انسانی جنگ بندی"

فرانسیسی وزیر اعظم الزبتھ بورن نے پیر کو قومی اسمبلی کو بتایا کہ پیرس غزہ کی پٹی میں امداد کی تقسیم کی اجازت دینے کے لیے "انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی" کا مطالبہ کر رہا ہے، جس سے "جنگ بندی ہو سکتی ہے"

بورن نے بتایا کہ "امداد کی تقسیم کے لیے ایک انسانی جنگ بندی کی ضرورت ہے جو جنگ بندی کا باعث بن سکتی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "رفح کراسنگ ابھی محدود سطح پر کھلی ہوئی ہے۔ہم نئے (امدادی) کراسنگ کی اجازت دینے کے لیے رفح کراسنگ کو کھولنے کا مطالبہ کرتے ہیں"۔

اپنی تقریر میں وزیر اعظم نے فرانس اور فلسطینیوں کے درمیان تاریخی تعلقات کو دہراتے اس بات پر زور دیا کہ فرانس اسرائیل اور فلسطینیوں دونوں کا دوست اور خطے کے عرب ممالک کا دوست ہے۔ یہ ایک آزادانہ موقف ہے جو ہم نے ہمیشہ اختیار کیا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں