جنگ بندی سے حماس کو فائدہ ہو گا،اسرائیل جنگ بندی برداشت نہیں گے: امریکی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ بعض یورپی ملک بھی غزہ میں جنگ بندی چاہتے ہیں۔ مگر یہ جنگ بندی کی گئی تو اس کا فائدہ حماس کو ہو گا۔ یہ بات امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے رپورٹرس سے بات چیت کے دوران کہی ہے۔

'جنگ بندی حماس کو نہ صرف جنگی کیفیت سے نکل کر آرام کا موقع دے گی بلکہ اسرائیل کے خلاف کارروائیاں کرنے کے لیے از سر نو خود کو تیار کر لے گی۔'

امریکی ترجمان نے کہا ' آپ سمجھ سکتے ہیں۔ جنگ بندی سے واضح اور کلی طور اسرائیل کے لیے ناقابل برداشت صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ جیسا کہ یہ کسی بھی دوسرے ملک کے لیے قابل برداشت نہیں ہو گینکہ دہشت گردانہ حملہ جاری رہے اور اس کے لیے دہشت گردی کا خطرہ اس کی سرحدوں پر پہنچ جائے۔ '

ملر نے کہا ' امریکہ انسانی بنیادوں پر جاری کام کو الگ سے دیکھ رہا ہے، اس مقصد کے لیے امریکی سفیر کے ساتھ ڈیوڈ سیٹر فیلڈ بھی موقع پر جا کر پوری توجہ سے چیزوں کو دیکھ رہے ہیں۔

واضح رہے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے پیر کے روز کہا تھا ' یورپی بلاک کے رہنما توقع کرتے ہیں کہ وہ جنگ بندی کے مطالبے کی حمایت کریں گے تاکہ امدادی سرگرمیاں ممکن ہو سکیں۔ '

' میں یقین رکھتا ہوں کہ جنگ میں انسانی بنیادوں پر آنے والے وقفے کے نتیجے میں امدادی کارکنوں کو سہولت ملے گی، بے گھر ہو چکے شہریوں کو شیلٹر میں آنے کا موقع ہو گا، یہ وہ چیزیں ہیں جن کی یورپی لیڈر حمایت کریں گے۔'

بوریل نے یہ بات لکسمبرگ میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اپنی بات چیت کے بعد کہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں