فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں اسرائیل کے کچھ اقدامات الٹے پڑ سکتے ہیں: اوباما کی تنبیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سابق امریکی صدر براک اوباما نے پیر کو کہا کہ حماس کے خلاف جنگ میں اسرائیل کے کچھ اقدامات مثلاً غزہ میں خوراک اور پانی کی بندش "فلسطینیوں کے رویوں کو نسلوں تک کے لیے سخت" اور اسرائیل کے لیے بین الاقوامی حمایت کو کمزور کر سکتے ہیں۔

ایک فعال خارجہ پالیسی کے بحران پر شاز و نادر کیے جانے والے تبصروں میں اوباما نے کہا کہ کوئی بھی اسرائیلی فوجی تدبیر جو جنگ میں انسانی جانوں کے ضیاع کو نظر انداز کر دے "آخر کار الٹی پڑ سکتی ہے۔"

اوباما نے کہا۔ "اسرائیلی حکومت کی طرف سے (غزہ میں) یرغمال شہری آبادی کے لیے خوراک، پانی اور بجلی منقطع کرنے کے فیصلے سے نہ صرف بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے؛ بلکہ یہ نسلوں کے لیے فلسطینی رویوں کو مزید سخت اور اسرائیل کے لیے عالمی حمایت کو ختم کر سکتا ہے، اسرائیل کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیل سکتا ہے، اور خطے میں امن اور استحکام کے حصول کے لیے طویل المدتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔‘‘

حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد سے اسرائیل نے غزہ پر شدید بمباری کی ہے جس میں 1,400 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے۔ غزہ کے حکام کہتے ہیں کہ اسرائیل کے فضائی حملوں میں 5000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اوباما نے حماس کے حملے کی مذمت کی اور اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا جبکہ ایسی جنگوں میں شہریوں کو لاحق خطرات کے بارے میں خبردار کیا۔

یہ واضح نہیں تھا کہ آیا اوباما نے اپنے بیان کو امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ہم آہنگ کیا تھا جو آٹھ سال تک ان کے نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

اپنی صدارت کے دوران اوباما غزہ میں فلسطینی اسلامی گروپ حماس کے ساتھ تنازعات کے آغاز میں اکثر اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کرتے تھے لیکن فضائی حملوں میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کے بعد انہوں نے فوراً اسرائیل سے تحمل کا مطالبہ کیا۔

45 کلومیٹر طویل (25 میل) زمین کی پٹی غزہ جس میں 2.3 ملین افراد رہائش پذیر ہیں، وہاں 2007 سے سیاسی طور پر ایران کے حمایت یافتہ اسلامی گروپ حماس کی حکومت ہے لیکن اسے اسرائیل کی جانب سے ناکہ بندی کا سامنا ہے۔

اوباما انتظامیہ نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات میں امن معاہدے کی کوشش کی تھی لیکن بالآخر معاملات طے کروانے میں ناکام رہی۔

2021 کے اوائل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بائیڈن نے طویل تعطل کا شکار بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش نہیں کی، یہ کہتے ہوئے کہ دونوں طرف کے رہنما اپنے مؤقف پر بہت سختی سے کاربند تھے اور ماحول مناسب نہیں تھا۔

جب اوباما صدر تھے تو ان کے اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان تعلقات ترشی کا شکار تھے بشمول جب اوباما انتظامیہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر بات چیت کر رہی تھی۔

اوباما کے نائب صدر کے طور پر بائیڈن اکثر دو آدمیوں کے درمیان ثالث کے طور پر کام کرتے تھے۔

پیر کو اپنے بیان میں اوباما نے تسلیم کیا کہ امریکہ خود "جب جنگ میں مصروف تھا تو ہماری اعلیٰ اقدار سے پیچھے تھا" بالخصوص 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں