غزہ میں جنگ بندی کی فوری ضرورت ہے: روسی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں فلسطینی دھڑوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ جاری ہے۔روس اس جنگ کو روکنے کے لیے مسلسل کوشش کر رہا ہے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے پیر کے روز زور دیا کہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ غزہ میں جنگ بندی، انسانی ضروریات کو پورا کرنے، اور پھر "ایک وسیع فریم ورک کے اندر" ایک نیا امن میکانزم ہے۔

لاوروف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں موجودہ امریکی فوجی کمک اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کو "بڑھانے" کا خطرہ ہے۔

انہوں نے تہران میں ایک علاقائی سفارتی اجلاس کے دوران امریکا کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں جنگی جہاز بھیجنے پر بھی بات کی۔انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی ملک ایسے ہی پیشگی اقدامات اٹھاتا ہے تواس سے تنازع کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے"۔

گذشتہ ہفتے کے روز امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے مشرق وسطیٰ کے خطے میں محکمہ دفاع کی پوزیشن کو مضبوط بنانے کا اعلان کیا۔ اس طرح سے ڈیٹرنس کی کوششوں میں اضافہ ہوگا اور اسرائیل کو اپنے دفاع میں مدد ملے گی۔

طیارہ بردار جہاز

پینٹاگان کے ایک بیان کے مطابق یہ فیصلہ امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں ایران اور اس کی پراکسی فورسز کی طرف سے حالیہ کشیدگی کے بارے میں تفصیلی بات چیت کے بعد کیا گیا ہے۔

آسٹن نے کہا کہ اس نے USS Dwight D. Eisenhower طیارہ بردار بحری جہاز کی نقل و حرکت کو ذمہ داری کے مرکزی کمان کے علاقے میں بھیج دیا ہے۔ امریکی عہدیدار نے کہا کہ اس اقدام سے "ہماری قوت کی پوزیشن میں اضافہ ہوگا اور ہماری صلاحیتوں اور ہنگامی حالات کا جواب دینے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا"۔

امریکی طیارہ بردار جہاز
امریکی طیارہ بردار جہاز

آسٹن نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس آئزن ہاور کو سینٹ کام کے علاقے میں کام کرنے کی ہدایت کی۔ امریکی وزیردفاع نے تصدیق کی کہ آئزن ہاور کا کیریئر جیرالڈ فورڈ کے ساتھ جو اس وقت مشرقی بحیرہ روم میں کام کر رہا ہے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے امریکی افواج کی صلاحیت کو بڑھادے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں