آئی ایم ایف کا مالی انتظامات کا جائزہ مشن 2 نومبر کو پاکستان کا دورہ کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مقامی نمائندے نے کہا ہے کہ تقریبا3 بلین ڈالر کے بیرونی مالی انتظامات کا جائزہ لینے مشن اگلے ہفتے پاکستان کا دورہ کرے گا۔

حکومت پاکستان سے دو نومبر سے شروع ہونے والے مذاکرات میں یہ مشن 3 بلین ڈالر کے اسٹینڈ بائی انتظامات کا جائزہ لے گا۔ پاکستان جولائی میں منظور شدہ آئی ایم ایف کے قرضہ پروگرام کے تناظر میں نگراں حکومت کے تحت اس وقت معاشی بحالی کے لیے ایک کٹھن راستے پر گامزن ہے، جس سے بہرحال قرضوں کے ڈیفالٹ کو روکنے میں مدد ملی ہے۔

اس پروگرام کے تحت پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے جولائی میں پہلی قسط کے طور پر 1.2 بلین ڈالر موصول ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے عملے اور حکام کے درمیان موجودہ مالی سال میں میکرو اکنامک استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت جاری ہے، کئی چیلینجنز کے باوجود مالی سال 23 کے بجٹ اور بعد میں اس حوالے سے پیش رفت دیکھی گئی ہے۔

پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندے ایستھر پیریز روئز نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ مسٹر ناتھن پورٹر کی قیادت میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ٹیم موجودہ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) کے تحت پہلے جائزے پر 2 نومبر سے پاکستان کا دورہ کرے گی۔

یاد رہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کی معیشت اور عالمی ساکھ کی بحالی کے لیے ضروری سمجھے جانے والے نو ماہ کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کی منظوری دی تھی جس میں عالمی مالیاتی ادارے نے تقریباً تین بلین ڈالر یا 111 فیصد سے زائد کوٹے کی منظوری دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں