حماس عوامی نمائندگی نہیں کرتی: میکرون، غزہ پر جارحیت روکی جائے: محمود عباس

فرانسیسی صدر کی فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے رام اللہ میں ملاقات، غزہ جنگ پر گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے کہا ہہے کہ حماس نے جو کچھ کیا وہ فلسطینیوں کے لیے ایک انسانی تباہی اور اسرائیلیوں کے لیے ایک المیہ کا باعث بنا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حماس فلسطینی عوام کی نمائندگی نہیں کرتی۔

میکرون نے رام اللہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی اور کہا کہ سات اکتوبر کی جنگ کے بعد یہ کسی مغربی صدر کا فلسطین کا پہلا دورہ ہے۔ ہم غزہ کے متاثرین کے بارے میں سوچتے ہیں، میں غزہ میں شہریوں کی تکالیف دیکھ رہا ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اسرائیل کے غم اور سوگ میں شریک ہیں۔ ۔ حماس کی طرف سے تشدد اور دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ شہریوں کی جانیں ہمارے لیے یکساں اہمیت رکھتی ہیں اور ان کی حفاظت بین الاقوامی قانون کی طرف سے عائد کردہ ایک اخلاقی فرض ہے۔

یرغمالیوں کے بارے میں انہوں نے کہا ’’ہم غزہ میں اپنے 170 شہریوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم اب بھی فرانسیسی مغویوں کی رہائی کے لیے کام کر رہے ہیں‘‘

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا کہ ہم کسی ایسے سیکورٹی اور فوجی حل کو قبول نہیں کریں گے جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بنیں اور خطے کو علاقائی یا حتیٰ کہ عالمی جنگ میں بھی دھکیل دے۔ انہوں نے میکرون سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کے خلاف اس جارحیت کو رکوائیں۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے منگل کے روز فرانس کے صدر میکرون سے گفتگو میں کہا بین الاقوامی برادری کو اسرائیل کی "جارحیت" کو روک دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا ہم صدر میکرون پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس جارحیت کو روکیں۔ محمود عباس نے میکرون کے ساتھ رام اللہ میں بات چیت کے بعد کہا کہ اس جنگ میں غزہ اور اسرائیل میں ہزاروں شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

فلسطینی رہنما نے اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو وحشیانہ طریقے سے قتل کیا جارہا ہے۔

عباس نے کہا کہ اسرائیل اور اس کی حمایت کرنے والے ممالک ہی اس تنازع کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ پر ایک بین الاقوامی امن کانفرنس ہونی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں