خطے میں امریکی فوج کو ایران اور ایرانی ' پراکسیز' سے خطرہ ہے: ترجمان پینٹاگون

فوج کے تحفظ کے لیے مشرق وسطیٰ میں امریکی ایف سولہ طیارے پہنچ گئے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ نے اسرائیل اور حماس کی جنگ کے رخ میں ممکنہ تبدیلی کے پیش نظر اپنے ایف سولہ طیارے بھی مشرق وسطیٰ میں بھجوا دیے ہیں۔ ان ایف سولہ جنگی طیاروں کی مشرق وسطیٰ آمد کا مقصد امریکی فوجی اڈوں اور امریکی فوجیوں کا تحفظ بتایا گیا۔

امریکہ کی طرف سے یہ پیش رفت ان مسلسل سامنے آنے والی خبروں کے تناظر اہم ہے جن میں اسرائیل اور فلسطینی مزاحمت کار گروپ حماس کی جنگ پھیل کر پورے مشرق وسطیٰ کی طرف جاتی بتائی جا رہی ہے۔خود امریکہ کی جوبائیڈن انتظامیہ اور مشرق وسطیٰ کے ملک بھی اس خطرے کو محسوس کر رہے ہیں۔

تاہم اسرائیل کے ساتھ امریکہ سمیت کئی مغربی ملک اس جنگ کو فوری روکنے اور جنگ میں وقفے کرنے پر بھی تیار نہیں ہیں۔ یوں ہر آنے والا دن اسرائیل کے زیر محاصرہ غزہ کی جنگ کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ' ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائیں اب تک خطے میں امریکی فورسز پر ایک درجن سے زائد حملے کر چکی ہیں۔ ترجمان کے مطابق یہ حملے عراق اور شام میں کیے گئے ہیں۔ '

ترجمان نے بڑے واضح انداز میں کہا ' ہم جانتے ہیں کہ امریکی فوج پر یہ حملے کرنے والے گروپ ایرانی پاسدران اور ایرانی رجیم کے حمایت یافتہ ہیں۔' پینٹاگون میں امریکی فضائی کے لیے ترجمان بریگیڈئیر جنرل پیٹ رائیڈر نے کہا ' جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ بڑی واضح چیز ہے کہ امریکی فورسز کے خلاف جنگی ماحول میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ یہ اضافی فوجوں، اہلکاروں کے خلاف پورے علاقے میں نظر آرہا ہے۔ یہ ایران کی 'پراکسیز' سے خطرہ ہے اور بالآخریہ خطرہ براہ راست ایران سے ہے۔ '

ترجمان نے کہا جب حماس نے اسرائیل پر راکٹ حملہ کیا تو اس وقت سے امریکہ کے سامنے مشرق وسطیٰ میں اپنی فورسز کو محفوظ بنانے کے لیے کوشش کرنا ہمارے تین مقاصد میں سے ایک ہے۔

ترجمان نے کہا امریکہ اسرائیل کے دفاع کرنے کے حق کی بھی پوری طرح حمایت کرتا ہے۔ تاکہ وہ اپنے اوپر ہونے والے حملوں سے خود کو محفوظ بنا سکے۔ ان حملوں نے علاقے میں بھی سرحدی تصادم کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

امریکی ترجمان نے کہا ' اسرائیلی کی معاونت کے لیے کہ وہ اپنا دفاع کر سکے ، امریکہ نے تیزی سے اسرائیل کو سکیورٹی امور پر معاونت دی ہے تاکہ اسرائیلی فوج اپنے لوگوں کی حفاظت کر سکے۔

ترجمان نے مزید کہا ' جیسا کہ ہم نے اس امر کو نمایاں کیا ہے اس میں یہ بھی شامل ہے کہ اسرائیلی استعدادی امور بھی شامل ہیں جنہیں بڑھانے کے لیے گائیڈڈ گولے ، چھوٹے قطر جے بم ، توپ خانہ ، آئرن ڈوم سسٹم کے لیے 'انٹر سیپٹرز' اور دیگر جدید آلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ہم اپنے اسرائیلی شراکت دار کے ساتھ اس کی دفاعی ضروریات کے لیے قریبی رابطے میں ہیں۔ اسرائیل کی سلامتی ہمارے ارادوں میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں