طیب ایردوآن خم ٹھونک کر حماس کے ساتھ کھڑے ہو گئے؟

حماس دہشت گرد نہیں، مجاہدین کا گروپ ہے، اپنی زمین اور لوگوں کے لیے لڑ رہا ہے۔ صدر ترکیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے حماس کے بارے میں امریکہ اور مغربی ملکوں کے موقف کے برعکس کھلے اور واضح الفاظ میں کہا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کوئی دہشت گرد تنظیم نہیں بلکہ ایک آزادی کی جدوجہد کرنے والی جماعت ہے۔

صدر ایردوآن کا اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تصادم اور اس سلسلے میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور بعض دوسرے ملکوں کے کھل کر اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہوجانے کے علاوہ اسے ہر طرح کی مدد دینے کے اقدامات کے بعد پہلا مضبوط ترین بیان سامنے آیا ہے۔

طیب ایردوآن اپنی اے کے پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے اس موقع پر غزہ پر بمباری روکنے اور فوری طور فلسطین فورسز اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا۔

صدر ترکیہ نے اس حوالے سے مسلم ممالک کو متوجہ کرتے ہوئے کہا لازماً مسلم ممالک کو مل کر کوششیں کرنی ہیں تاکہ امن کو بچایا جا سکے اور خطے میں امن کی پائیداری ممکن ہو سکے۔

حماس کے بارے میں انہوں نے اب کے کسی بھی مسلم ملک کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور بے دھڑک موقف کا اظہار کیا اور کہا 'حماس ہر گز دہشت گرد تنظیم نہیں ہے۔'

'یہ ایک حریت پسند مجاہدین کا گروپ ہے۔ جس نے اپنی سرزمین اور اپنے لوگوں کے لیے جدوجہد شروع کر رکھی ہے۔ '

طیب ایردوآن نے مغربی طاقتوں کی مذمت کی کہ 'وہ اسرائیل کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں کہ اسرائیل نے جوابی کارروائی کی۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب کے اسرائیل کے لیے آنسو محض دھوکہ دہی ہیں۔'

دوسری جانب نیٹو کے کئی ارکان اور طیب ایردوآن کے حماس اور اسرائیل کے بارے میں خیالات میں فرق پایا جاتا ہے۔ اٹلی کے نائب وزیر اعظم میٹیو سالوینی نے ترک صدر کے ان خیالات پر سخت تنقید کی ہے۔

انہوں نے کہا ' یہ سنگین اور مکروہ ہیں اور کشیدگی کم کرنے میں مدد نہیں کرتے۔' میں اپنے رفیق کار وزیر خارجہ سے کہوں گا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ایک باقاعدہ درخواست کریں کہ ترکہ کے سفیر کو بلا کر جواب طلبی کریں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں