اسرائیل۔ حماس جنگ مشرق وسطی کے باہر تک پھیل سکتی ہے: پوتین کا انتباہ

معصوم شہریوں کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ مسئلے کا حل صرف دوریاستی ہے: کریملن میں خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کے صدر ولادی میر پوتین نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کی جنگ مشرق وسطیٰ سے باہر تک پھیل سکتی ہے۔ کیونکہ یہ بات درست نہیں ہے کہ کہ معصوم عورتوں، بچوں اور بوڑھے فلسطینیوں کو دوسرے لوگوں کے جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔

صدر پوتین کریملن میں ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس میں مختلف مذاہب کے رہنما شریک تھے۔

ان کا کہنا تھا ' خطے میں لہو بہانے کا سلسلہ روکا جانا چاہیے تھا۔ میں نے یہ بات دنیا کے دوسرے رہنماوں کے ساتھ فون کالز پر کہی کہ اگر جنگ بندی نہ کی گئی تو خطرہ ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ کے باہر زیادہ دور تک پھیل جائے گی۔'

' آج ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ اسے خونریزی اور تشدد کو روکیں وگرنہ بحران مزید بڑھ جائے گا۔ جس کے مضمرات بڑے سنگین ہوں گے۔ خدشہ ہے کہ یہ مضمرات صرف مشرق وسطیٰ تک کے لیے نہیں ہوں گے بلکہ مشرق وسطیٰ کی سرحدوں سے باہر تک چلے جائیں گے۔'

روس کے صدر نے اپنے ریمارکس میں مغربی ملکوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا 'بعض مخصوص افواج خطے میں اشتعال اور جنگ کے بڑھاوے کے لیے متحرک نظر آرہی ہیں۔ ان کی وجہ سے کئی دوسرے ملک اور ان کے لوگ بھی جنگ میں ملوث ہو جائیں گے۔ '

'جنگی پھیلاو روکنے کے لیے دوسری چیزوں کے علاوہ کوشش کر رہا ہوں کہ قومی اور مذہبی سطح پر لاکھوں لوگوں کے جذبات کو سامنے لا سکیں اور ان کی ترجمانی کر سکیں۔ '

پوتین نے اس موقع پر اسرائیل سمیت ان تمام ملکوں کے لوگوں سے اظہار تعزیت کیا جن کے عزیز و اقارب اس جنگ کی نذر ہو چکے ہیں۔ نیز اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ماسکو مشرق وسطیٰ کے اس دیرینہ مسئلے کے دوریاستی حل کے لیے کوشش کرتے رہیں گے، ایک طویل مدتی امن کے لیے یہی ایک راستہ ہے۔

صدر پوتین نے اس امر کو دہراتے ہوئے کہا ' یہ بہت واضح ہے کہ معصوم لوگوں کو دوسروں کے جرم کا ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے نہ سزا دی جا سکتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اجتماعی سزا کے بدنام زمانہ تصور کے تحت نہیں لڑی جا سکتی۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں