افریقی ملک یوگنڈا جہاں پچھلی صدی میں نیتن یاھو کے بھائی کا قتل کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پچھلی صدی کے دوران فلسطین اسرائیل تنازعے نے فلسطینی سرحدوں کو عبور کیا ہے اور دنیا کے بہت سے دوسرے خطوں پر اس کے اثرات پہنچے۔

ستمبر 1972 میں بلیک ستمبر تنظیم سے وابستہ ایک فلسطینی گروپ نے میونخ اولمپک گیمز میں شرکت کرنے والے اسرائیلی وفد کے متعدد اسرائیلی کھلاڑیوں کو یرغمال بنا لیا۔ ملزمان نے ان کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید تقریباً 237 قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

اس کے مکمل ہونے پر آپریشن کے نتیجے میں دو جرمنوں کے علاوہ 11 اسرائیلی ایتھلیٹ اور 5 ملزمان مارے گئے۔

اس واقعے کے 4 سال بعد افریقہ میں یوگنڈا کے’عنتیبی‘ ہوائی اڈے پر ایک ایسا ہی واقعہ دیکھنے میں آیا، جہاں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے متعدد ارکان نے ایئر فرانس کے طیارے کو ہائی جیک کرلیا جس میں بڑی تعداد میں اسرائیلی سوار تھے۔

آپریشن کے دوران زخمی ہونے والے مریض کو منتقل کرنے کے عمل کی تصویر
آپریشن کے دوران زخمی ہونے والے مریض کو منتقل کرنے کے عمل کی تصویر

عنتیبی ہوائی اڈے کی طرف

تل ابیب اور پیرس کے درمیان اپنی پرواز کے دوران ایئر فرانس سے تعلق رکھنے والے ایک ایئربس A300 کو فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور جرمن لیفٹسٹ ریوولیوشنری سیلز آرگنائزیشن کے متعدد ارکان نے ایتھنز کے آسمان پر ہائی جیک کر لیا۔

طیارے کا رخ اس کی منزل سے موڑ کر لیبیا کی طرف لے جانے پر مجبور کیا گیا۔

بعد میں یوگنڈا کی طرف لےجایا گیا جہاں یہ طیارہ عنتیبی ہوائی اڈے پر اتر گیا۔ وہاں اغوا کاروں کو یوگنڈا کے صدر ایدی امین دادا کی حمایت حاصل تھی جس نے انہیں تحفظ فراہم کیا۔

اس عرصے کے ذرائع کے مطابق 27 جون 1976 کو ہائی جیک ہونے والے اس طیارے میں تقریباً 248 مسافر سوار تھے۔ان میں خاصی تعداد میں اسرائیلی شہری بھی شامل تھے۔ اغوا کاروں نے اسرائیلی جیلوں میں قید درجنوں قیدیوں کی رہائی اور دیگرچار ممالک میں قید اپنے 13 قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

ایدی امین دادا
ایدی امین دادا

عنتیبی ہوائی اڈے پر پہنچنے پر یوگنڈا کے صدر ایدی امین دادا نے ذاتی طور پر اغوا کاروں کا استقبال کیا۔ ان کی مدد کے لیے 100 فوجی بھیجے۔ جب کہ اغوا کاروں نے مغوی افراد کو منتشر کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ اسرائیلی شہریت کے حامل افراد کو دوسرے مسافروں سے دور ایک خاص جگہ پر رکھا گیا۔ اگلے گھنٹوں میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے ارکان نے تقریباً 94 اسرائیلی مسافروں اور جہاز کے عملے کو الگ تھلگ کرلیا۔ غیراسرائیلی قیدیوں کو رہا کردیا گیا۔

نیتن یاہو کے بھائی

مشاورت کے ایک سلسلے کے بعد 4 جولائی 1976ء کو اسرائیلی موساد نے آپریشن ڈارکنس کا آغاز کیا۔ اس خصوصی آپریشن کے دوران اسرائیلیوں نے تقریباً 100 کمانڈوز کو بھرتی کیا اور ساتھ ہی یوگنڈا کی فوج کے ساتھ ممکنہ فوجی تصادم کے لیے بھی تیاری کی۔

یوناتن نیتن یاہو کمانڈو لباس میں
یوناتن نیتن یاہو کمانڈو لباس میں

اس آپریشن کے دوران اسرائیلیوں نے اپنی افواج کو ایک پرائیویٹ فوجی طیارے میں سوار کرکے 4000 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا جس کے ساتھ کچھ جنگی طیارے بھی تھے۔ تقریباً 90 منٹ تک جاری رہنے والے آپریشن کے دوران اسرائیلی کمانڈو ٹیمیں یرغمالیوں کو آزاد کرانے اور کینیا کے علاقے کی طرف پیچھے ہٹنے میں کامیاب ہوئیں۔

یوگنڈا کے تقریباً 45 فوجیوں کے علاوہ کئی ہائی جیکر مارے گئے اور درجنوں یوگنڈا کے لڑاکا طیارے مار گرائے گئے۔ اسرائیل کے 6 فوجی ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔ہلاک ہونے والوں میں موجودہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے بڑے بھائی یوناتن نیتن یاہو بھی شامل تھے۔

اس عرصے کے دوران کینیا نے یوگنڈا کی سرزمین پر آپریشن کرنے کے لیے اسرائیلی افواج کو مدد فراہم کی۔ جواب میں ایدی امین دادا نے یوگنڈا کی سرزمین پر رہنے والے تمام کینیا کے باشندوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ ان کے بیانات کے بعد ہونے والے تشدد کے دوران کینیا کے 245 باشندے مارے گئے جب کہ تقریباً 3000 دیگر یوگنڈا کے علاقے سے باہر بھاگ گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں