ایران نے 7 اکتوبر حملہ سے قبل 500 سے زیادہ فلسطینیوں کو تربیت دی: امریکی میڈیا

واضح نہیں آیا یہ تربیت خاص سات اکتوبر کے حملے کے لیے تھی یا نہیں: امریکی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس کی طرف سے سات اکتوبر کو اسرائیل میں حیران کن حملہ کیا گیا۔ ان حملے میں 1400 اسرائیلی ہلاک ہوگئے۔ اس بڑے حملے کے راز آہستہ آہستہ کھل رہے ہیں۔ اس تناظر میں امریکی انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل پر حماس کے حملے سے پہلے کے ہفتوں میں حماس کے سینکڑوں افراد نے ایران میں خصوصی جنگی تربیت حاصل کی ہے۔ حملے سے متعلق انٹیلی جنس معلومات سے واقف لوگوں نے یہ بات امریکی اخبار ’’ دا وال سٹریٹ‘‘ کو بتائی۔

ذرائع نے بتایا کہ حماس اور تحریک اسلامی جہاد کے لگ بھگ 500 عسکریت پسندوں نے ستمبر کے دوران تربیتی مشقوں میں حصہ لیا۔ ان تربیتی مشقوں کی قیادت ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کے غیر ملکی آپریشنز بازو قدس فورس کے افسران کر رہے تھے۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ ایران باقاعدہ طور پر فلسطینی عسکریت پسندوں کو ایران اور دیگر مقامات پر تربیت دیتا ہے تاہم حملے سے قبل ان کے پاس اجتماعی تربیت کے کوئی اشارے نہیں تھے۔ امریکی حکام اور انٹیلی جنس سے واقف لوگوں نے بتایا ان کے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ایران نے خاص طور پر سات اکتوبر کے واقعات کی تیاری کے لیے مشقیں کی تھیں۔

بدھ کو اسرائیلی فوج نے حماس اور دیگر مسلح گروپوں کی مدد میں ایران کے کردار کے بارے میں بات کی۔ آئی ڈی ایف کے چیف ترجمان جنرل ڈینیئل ہگاری نے کہا کہ ’جنگ سے پہلے ایران نے حماس کی براہ راست رقم، تربیت، ہتھیاروں اور تکنیکی معلومات سے مدد کی تھی۔

حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیل نے غزہ میں ہزاروں اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑی فضائی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اسرائیل کی خوفناک بمباری میں 6000 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اس تنازع کی وجہ سے ایران اور اس کی حمایت کرنے والے یمن، شام، لبنان اور عراق تک پھیلے ہوئے مسلح گروپوں کے نیٹ ورک کے ساتھ تصادم پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

اسرائیل اور امریکہ نے حماس اور دیگر اسرائیل مخالف گروپوں کی حمایت کرنے میں ایران کے کردار کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں