کوئی انسان اس جنگ میں کیسے شامل ہو سکتا ہے جس کا مطلب معصوم بچوں کی ہلاکت ہے؟

غزہ میں نسل کشی جاری ہے؛ تمام مغویان رہا کیے جائیں، غزہ تک امدادی سامان پہنچنے کا راستہ کھولا جائے: برازیلی صدر کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برازیل کے صدر لوئزاناشیو لولا دا سلوا نے غزہ میں اب تک ہو چکی ہزاروں ہلاکتوں کے باعث اسرائیل اور حماس کی جنگ کو نسل کشی قرار دیا ہے۔ انہوں نے غزہ میں بچوں کی ہلاکتوں کی غیر معمولی طور پر بڑھ چکی تعداد پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا یہ نسل کشی ہے۔

برازیل کے صدر نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر تمام مغویان کو رہا کیا جائے اور امدادی سامان غزہ کی پٹی پر شہریوں تک پہنچانے کی اجازت دی جائے۔

صدر لولا نے سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ' یہ جنگ نہیں ہے نسل کشی ہے۔ جس میں 2000 کے قریب بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ وہ بچے جن کا اس جنگ سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا 'میں نہیں جانتا کہ کوئی انسان ایسی جنگ کا متحمل کیسے ہو سکتا ہے جس کے بارے میں وہ جانتا بھی ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں معصوم بچوں کی ہلاکتیں ہوں گی۔ '

خیال رہے اسرائیل اور حماس کی جنگ کے دوران اب تک سات ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں تقریباً تین ہزار بچے اور سترہ سو خواتین بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا ان کا دوسرے ملکوں کے رہنماوں کے ساتھ رابطہ ہے اور امیرقطر سے انہوں نے غزہ میں پھنسے برازیلی شہریوں کو نکالنے کے لیے بھی بات کی ہے۔

واضح رہے غزہ میں 30 برازیلی شہری موجود ہیں۔ صدر برازیل نے بتایا کہ ان کا وکلا کی ٹیم سے بھی اپنے مغوی شہریوں کی واپسی کے لیے رابطہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں