اسرائیل کی مدد، عراق میں لڑاکا طیارے کھڑا کرنے کے لیے امریکی پیشکش ٹھکرا دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی پر ممکنہ اسرائیلی زمینی حملے کی توقعات کی روشنی میں عراق میں کوآرڈینیشن فریم ورک الائنس کے ایک ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعظم محمد شیاع السوڈانی نے عراقی سرزمین میں لڑاکا طیاروں کی تعیناتی کی امریکی پیشکش کو مسترد کردیا ہے۔ امریکہ اسرائیل کی مدد کے لیے عراقی اڈوں پر لڑاکا طیارے کھڑے کرنا چاہتا تھا۔

عراقی ذریعہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکہ نے منصوبے کے تحت کسی بھی بیرونی طاقت کو غزہ میں جاری جنگ میں مداخلت سے روکنے کے لیے عراقی اڈوں پر ایف سولہ طیاروں کی تعیناتی کی درخواست کی تھی۔

ذریعہ نے مزید کہا کہ ان طیاروں کو تعینات کرنے کی درخواست کے ساتھ واشنگٹن کی طرف سے پیشکش کی گئی تھی کہ وہ ممالک جو مشرق وسطیٰ میں سینٹرل کمانڈ کے علاقے میں اپنی فضائی حدود رکھتے ہیں، ان کی افواج کو فضائی دفاعی نظام بھی فراہم کیا جائے گا۔

عہدیدار نے مزید بتایا کہ داعش نے 2014 میں عراق پر حملہ کیا تھا تو ہم نے مسلح افواج کو مسلح کرنے کے لیے واشنگٹن سے مدد مانگی تھی۔ اس وقت امریکہ نے کہا تھا کہ اس عمل میں 24 ماہ لگیں گے۔ آج امریکہ اسرائیل کے لیے فوری طور پر اپنے میزائل کے دفاعی نظام کی تنصیب کر رہا اور ہزاروں فوجی بھی فراہم کر رہا ہے۔

وال سٹریٹ جرنل نے امریکی اور اسرائیلی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر ممکنہ زمینی حملے سے قبل خطے میں امریکی افواج کی حفاظت کے لیے اپنے فضائی دفاعی نظام کو لگانے کرنے کے لیے امریکہ کی درخواست پر اتفاق کیا ہے۔ اخبار نے کہا کہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) خطے کے کئی ممالک میں تقریباً 12 فضائی دفاعی نظام تعینات کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ افواج کو میزائلوں سے بچایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں