ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے حملوں کے بعد امریکی لڑاکا طیاروں کا شام پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے امریکی افواج پر حملوں کے جواب میں دو امریکی لڑاکا طیاروں نے جمعہ کے روز شام میں ہتھیاروں اور گولہ بارود کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس تازہ پیش رفت سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اسرائیل-حماس تنازع شرقِ اوسط میں پھیل سکتا ہے۔

پینٹاگون نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب اور اس کی پشت پناہی کرنے والی ملیشیا کے زیرِ استعمال دو تنصیبات پر حملوں کا حکم دیا اور خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے پراکسی حملے جاری رہے تو امریکہ مزید اقدامات کرے گا۔

امریکی اور اتحادی افواج پر گذشتہ ایک ہفتے کے دوران عراق اور شام میں کم از کم 19 بار ایرانی حمایت یافتہ افواج نے حملے کیے ہیں۔ حماس، اسلامی جہاد اور لبنان کی حزب اللہ کو تہران کی حمایت حاصل ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے جمعرات کو اقوامِ متحدہ میں کہا کہ اگر حماس کے خلاف اسرائیل کی جارحیت بند نہ ہوئی تو امریکہ بھی "اس آگ سے محفوظ نہیں رہے گا۔"

ایک امریکی دفاعی اہلکار نے کہا کہ امریکی فضائی حملے جمعہ کی صبح تقریباً 4:30 بجے (0130 جی ایم ٹی) شام میں عراق کی سرحد پر واقع ایک شامی قصبے ابو کمال کے قریب ہوئے اور دو ایف-16 لڑاکا طیاروں نے (تیر بہدف) عین نشانے پر گولہ باری کا استعمال کرتے ہوئے انجام دیئے۔

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے ایک بیان میں کہا، "یہ درست خود دفاعی (اپنی ذات/سرزمین کا دفاع) حملے 17 اکتوبر کو شروع ہونے والے ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا گروپوں کے ان حملوں کے سلسلے کا جواب ہیں جو وہ عراق اور شام میں امریکی اہلکاروں کے خلاف جاری رکھے ہوئے ہیں اور زیادہ تر ناکام رہے ہیں۔

آسٹن نے کہا، "امریکی افواج کے خلاف یہ ایرانی حمایت یافتہ حملے ناقابلِ قبول ہیں اور انہیں روکنا چاہیے۔"

وائٹ ہاؤس نے جمعرات کے اوائل میں کہا کہ بائیڈن نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک نادر پیغام بھیجا ہے جس میں تہران کو شرقِ اوسط میں امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے خلاف خبردار کیا گیا ہے۔

ایک سینئر امریکی دفاعی اہلکار نے کہا، "ہم چاہتے ہیں کہ ایران انتہائی مخصوص اقدامات کرے اور اپنی ملیشیاؤں اور پراکسی کو دستبردار ہونے کی ہدایت کرے۔" عہدیدار نے مزید کہا کہ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ فضائی حملوں کو مربوط نہیں کیا۔

فلسطینیوں کے انکلیو پر زمینی حملہ شرقِ اوسط میں وسیع تر تنازع کو جنم دے سکتا ہے، اس خدشے کے درمیان اسرائیل نے جمعہ کے روز کہا کہ غزہ میں فوجی چھاپے "آپریشن کا اگلا مرحلہ" تیار کر رہے ہیں۔

7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیلی کمیونٹیز پر حملے کے بعد اسرائیل نے گنجان آباد غزہ کی پٹی پر بمباری کی ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ حماس نے بچوں سمیت تقریباً 1400 افراد کو قتل کیا اور 200 سے زیادہ کو یرغمال بنا لیا جن میں سے کچھ بچے اور بوڑھے تھے۔

حماس کے زیرِ قبضۃ غزہ کی وزارتِ صحت نے جمعرات کو کہا کہ جوابی فضائی حملوں میں 7,028 فلسطینی ہلاک ہو گئے جن میں 2,913 بچے بھی شامل تھے۔

رائٹرز آزادانہ طور پر تعداد کی تصدیق نہیں کر سکا

مصر کی القاہرہ نیوز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ حماس-اسرائیل جنگ میں داغے گئے میزائل نے جمعہ کی صبح غزہ کی پٹی سے تقریباً 220 کلومیٹر (135 میل) دور مصر کے ایک تفریحی شہر کو نشانہ بنایا۔

القاہرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میزائل نے طابا میں ایک طبی مرکز کو نشانہ بنایا جس سے کم از کم چھ افراد زخمی ہو گئے۔ طابا میں ایک عینی شاہد نے دھماکے کی آواز سننے اور دھواں اٹھتا ہوا دیکھنے کی تصدیق کی لیکن رائٹرز فوری طور پر دھماکے کے ماخذ کی شناخت نہیں کر سکا۔

طابا اسرائیل کی بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ایلات کے ساتھ مصری سرحد کے دونوں جانب واقع ہے۔ اسرائیل کی فوج نے کہا کہ وہ اپنی سرحدوں کے باہر ایک سکیورٹی واقعے سے آگاہ تھی۔

رائٹرز فوری طور پر ان رپورٹس کی تصدیق نہیں کرسکا۔

حماس کے کمانڈروں کو نشانہ بنایا: اسرائیل کا بیان

اسرائیل نے جمعے کو کہا کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے غزہ سٹی بریگیڈ کے حصے دراج تفاح بٹالین میں حماس کے تین سینئر کارکنوں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل نے کہا کہ تینوں کمانڈروں نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

حماس کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

حماس سے منسلک میڈیا نے رپورٹ کیا کہ جمعہ کے روز غزہ کی پٹی کے کم از کم دو علاقوں میں فلسطینی عسکریت پسندوں کی اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔

اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجی گاڑیوں نے البریج کے مرکزی علاقے پر چھاپہ مارا اور وہاں سرحد کے قریب عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپیں ہو رہی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق جنوب میں رفح قصبے کے قریب ایک سرحدی علاقے میں حماس کے عسکریت پسند اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کر رہے تھے۔

رائٹرز فوری طور پر ان اطلاعات کی تصدیق کرنے سے قاصر تھا۔

جوں جوں فلسطینی شہریوں کی حالتِ زار مزید مایوس کن ہوتی جا رہی ہے تو یہ مسئلہ جمعے کے روز 193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے پیش کیا جائے گا کہ آیا حماس کے زیرِ انتظام ساحلی علاقے میں انسانی بنیادوں پر تؤقف کیا جائے یا جنگ بندی معاہدے۔ اس حوالے سے عرب ریاستیں جنگ بندی کے مطالبے پر مبنی ایک مسودہ قرارداد پیش کریں گی۔

سلامتی کونسل میں اس ہفتے غزہ کی امداد سے متعلق قراردادیں ناکام ہوئیں۔ اس کے برعکس جنرل اسمبلی میں کوئی بھی ملک ویٹو کی طاقت نہیں رکھتا۔ قراردادیں غیر پابند ہیں لیکن سیاسی وزن رکھتی ہیں۔

ہلالِ احمر کے علاقائی وفد کی بین الاقوامی کمیٹی کے سربراہ مامادو سو نے کہا۔ "یہ کہنا ایک چھوٹی سی بات ہے کہ غزہ میں انسانی صورتِ حال تباہ کن ہے۔ ہر وہ چیز جو زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے درکار ہے غزہ میں غائب ہے یا گذرتے وقت کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔"

ایک اندازے کے مطابق غزہ پر اسرائیلی بمباری سے 613,000 سے زائد افراد بے گھر ہو گئے اور اقوامِ متحدہ کی ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) نے انہیں پناہ دی۔

مغرب اور شرقِ اوسط کی حکومتوں کو اس بات پر تشویش ہے کہ حماس کے اچانک حملے کے جواب میں اگر اسرائیل نے غزہ پر بمباری جاری رکھی یا زمینی حملہ کیا تو وسیع تر علاقائی تنازعہ پیدا ہو گا۔

اسرائیل اور لبنان میں مقیم حزب اللہ پہلے ہی فائرنگ کا تبادلہ کر چکے ہیں اور اسرائیل نے شامی فوج کے بنیادی ڈھانچے اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکہ نے گذشتہ تین ہفتوں کے دوران اس خطے میں جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے بھیجے ہیں۔ جمعرات کو پینٹاگون نے کہا کہ تقریباً 900 مزید امریکی فوجی امریکی اہلکاروں کے فضائی دفاع کو تقویت دینے کی غرض سے شرقِ اوسط پہنچ چکے ہیں یا روانہ ہو رہے ہیں۔

ایک پریس کانفرنس میں ایران کے ساتھ تصادم کے امکان کے بارے میں سوال پر وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ نے اسرائیل کی طرف سے کہا کہ اسرائیل کو "جنگ کو توسیع دینے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں