سوڈان تنازع کے دونوں فریق فائرنگ بند کریں: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جدہ میں جمعرات کو سوڈان میں لڑائی کے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔ سعودی عرب نے سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز دونوں پر زور دیا کہ وہ لڑائی بند کر دیں۔

سعودی عرب نے زور دیا کہ وہ 11 مئی کو جدہ اعلامیہ اور سوڈان میں شہریوں کے تحفظ کے عزم کے تحت طے پانے والے معاہدے پر دوبارہ عمل درآمد شروع کردیں۔

سعودی عرب نے جدہ شہر میں فوج اور آر ایس ایف کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا بھی خیر مقدم کیا۔ ان مذاکرات میں ریاض اور واشنگٹن نے سہولت فراہم کی ہے۔ افریقی یونین اور بین الحکومتی اتھارٹی آن ڈویلپمنٹ (IGAD) دونوں کے مشترکہ نمائندے بھی مذاکرات میں مدد کر رہے ہیں۔

سعودی عرب نے صفوں کے اتحاد پر گہری دلچسپی دکھانے اور خونریزی کو روکنے اور سوڈانی عوام کے مصائب کو دور کرنے کے لیے حکمت کو ترجیح دینے کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ سعودی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ایک سیاسی معاہدہ کی ضرورت ہے جس کے تحت سوڈان اور اس کے عوام کے لیے سلامتی، استحکام اور خوشحالی حاصل کی جائے۔

عبوری خودمختاری کونسل کے نائب صدر ملک آقار نے کہا کہ حکومت نے موجودہ جنگ کو 4 مراحل سے گزارنے کے لیے ایک روڈ میپ پیش کیا ہے۔ یہ روڈ میپ دونوں فوجوں کے پیچھے ہٹنے، انسانی بنیادوں پر بحالی آپریشن شروع کرنے،

ریپڈ سپورٹ فورسز کو ضم کرکے واحد فوج بنا کر جنگ کے مسئلے کو حل کرنے اور آئین پر معاہدے پر مبنی ایک سیاسی عمل پر مشتمل ہے۔

نمائندے کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب وہ کل بدھ کو جنوبی سوڈان کے دارالحکومت ’’جوبا‘‘ میں 2020 میں طے پانے والے "جوبا امن" معاہدے کا جائزہ لینے کے لیے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذاکرات کا پچھلا دور گزشتہ جون میں اس وقت ختم ہو گیا تھا جب فوجی وفد نے مذاکرات کی میز سے دستبرداری اختیار کر لی تھی، جس کے خلاف اس نے ریپڈ سپورٹ فورسز کی طرف سے اپنی افواج کو رہائشی گھروں اور سرکاری اداروں سے ہٹانے سے انکار کیا تھا، جس کے نتیجے میں فوج پر الزام لگایا کہ وہ جدہ کے پلیٹ فارم کو ناکام بنانے اور فوجی حل کا سہارا لینے کی کوشش کر رہی ہے۔

واضح رہے سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان گزشتہ گفت و شنید جون میں اس وقت ختم ہوگئی تھی جب فوجی وفد نے مذاکرات سے نکل جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے جواب میں آر ایس ایف نے اپنے اہلکاروں کو رہائشی گھروں اور سرکاری اداروں سے ہٹانے سے انکار کردیا تھا۔ اس نے فوج پر الزام لگایا تھا کہ فوج جدہ پلیٹ فارم کو ناکام بنارہی ہے۔

مئی میں لڑائی کے دونوں فریقوں نے شہریوں کے تحفظ اور انسانی ہمدردی کے انتظامات کے اصولوں کے جدہ اعلامیہ پر دستخط کیے تھے۔ تاہم فریقین اس معاہدے پر عمل کرنے میں ناکام رہے اور اسی کے باعث مذاکرات بھی معطل ہوگئے تھے۔

سوڈان میں اس سال 15 اپریل کو لڑائی شروع ہوگئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں