سویڈن ۔۔ قرآن کو نذر آتش کرنے والے 'آتش بردار'عراقی کو سویڈن سے نہیں نکالا جائے گا

اسے ملک بدر کیا تو اس کی جان کوعراق میں خطرہ ہو سکتا ہے۔ سویڈن مائیگریشن ایجنسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سویڈن نے اس آتش بردار عراقی شہری کو ملک بدر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس نے قرآن مجید کو نذر آتش کرکے پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے تھے۔ بعد ازاں سویڈش مائیگریشن ایجنسی نے بھی اس کی ملک بدری کا فیصلہ کیا تھا۔

اس کے ملک بدر کیے جانے میں ایک وجہ اس کا سویڈن کی حکومت کو اپنے بارے میں غلط معلومات دی تھیں۔ تاہم سویڈن کی حکومت نے امریکہ اور مغربی ملکوں میں موجود کئی 'آتش برداروں' میں سے ایک اس عراقی کو اب ملک بدر کرنے کا فیصلہ روک دیا ۔

سویڈن کےحکام کے مطابق اس فرد کی عراق میں اس کے اپنے ہی ملک کے لوگوں سے جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

واضح رہے یہ 'آتش بردار' امریکہ اور یورپی ملکوں میں عام طور پر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اپنی نفرت ظاہر کرنے کے لیے قرآن مجید کو نذر آتش کرتے ہیں ۔ قرآن کو نذر آتش کرنے کے یہ واقعات نہ صرف پبلک مقامات پر کیے جاتے ہیں بلکہ ان کا پیشگی اعلان کیا جاتا ہے۔

ماہ اگست میں سویڈن کو اس وقت اپنے ملک کے شہریوں کے لیے اس وقت 'ہائی الرٹ 'جاری کرنا پڑ گیا تھا جب قرآن مجید کو نذر آتش کیے جانے کے خلاف رد عمل میں مسلمان ' انتہا پسندوں ' کے حملوں کا خطرہ تھا۔

یہ عراقی شہری جس کا نام 'سلوان مومیکا ' بتایا گیا ہے کئی ایسے ہی کئی واقعات میں ملوث ہے، اس نے سویڈن کے علاوہ ڈنمارک میں بھی قرآن مجید نذر آتش کیے ہیں۔ اس کا سویڈش میڈیا کے مطابق موقف ہے کہ وہ اسلام کے پورے ادارے کے خلاف احتجاج کرنا چاہتا ہے اور مسلمانوں کی مقدس کتاب پر پابندی چاہتا ہے۔

اس کا سویڈن بدری کے بارے میں بھی بڑا کھلا موقف ہے کہ وہ سویڈن سے نہیں جائے گا ، یہیں جیے گا ۔ یہیں مرے گا۔ اس نے اپنی سویڈش بدری کو مسترد کرتے ہوئے کہا اس کے پیچھے ضرور سیاسی مقاصد ہوں گے، لیکن وہ کسی قیمت پر سویڈن نہیں چھوڑے گا۔

اب سویڈن کے مائیگریشن سے متعلق ادارے مومیکا کی ملک بدری کو روک دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے کاغذات جس میں مومیکا نے غلط بیانی کی تھی ان کا بھی دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ کیونکہ مومیکا کے واپس عراق جانے سے اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ پچھلے ہفتے تونس کے ایک بندوق بردار نے سویڈن کے دو فٹ بال شائقین کو برسلز میں قتل کر دیا تھا۔ بندوق بردار نے خود کو داعش کا اہلکار بتایا تھا۔

اس بارے میں سویڈن کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یورپ کو اپنے سکیورٹی انتظامات کو مزید بہتر کرنا ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں