ایران کی عراق اور شام میں امریکہ پر حملے کرنے والے گروپوں کو ہدایات دینے کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ شام اور عراق میں امریکی افواج پر حملہ کرنے والے گروپ آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں اور انہیں تہران سے کوئی حکم یا ہدایات نہیں ملتیں۔

وزیرِ خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے بلومبرگ ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، "انہیں ہماری طرف سے کوئی حکم یا ہدایات موصول نہیں ہو رہیں۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ان کا تعلق ایران سے ہے۔ یہ گروپ اپنے لیے آزادانہ طور پر فیصلہ کرتے ہیں۔"

امیرعبداللہیان نے یہ بات امریکہ کے ایک بیان کے ایک دن سے بھی کم وقت کے بعد کہی ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں کہا تھا کہ اس نے ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی سے منسلک دو شامی تنصیبات پر فوجی حملے کیے جو خطے میں امریکی فوجیوں کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ ان کے پاس ایسے ثبوت نہیں ہیں کہ ایران نے واضح طور پر ان حملوں کا حکم دیا تھا لیکن وہ ایران کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ ان حملوں کو انجام دینے والے گروہوں کی حمایت کرتا ہے۔

امیرعبداللہیان نے کہا کہ انہوں نے عسکریت پسند گروپ حماس کو مشورہ دیا کہ وہ زیرِ حراست شہری قیدیوں کو رہا کرے۔ حماس کو امریکہ اور یورپی یونین نے دہشت گرد گروپ قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں