برطانیہ: اسرائیل فلسطین ایشو پر شہری تقسیم یہود اور اسلام مخالف سرگرمیوں میں ڈھل گئی

پولیس کو 'منافرت پر مبنی جرائم' میں کئی گنا اضافے کا سامنا؛ فلسطینوں کے حق میں بڑے بڑے مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ کے بعد برطانیہ میں بھی اسرائیل حماس جنگ کے بعد شہری موقف کی تقسیم میں شدت آ رہی نظر آئی ہے۔ حکومتی اور فوجی پالیسی کچھ بھی ہے عوام میں اپنی سوچ، شعور اور سیاسی و سماجی نظریات کی واضح لائن گہری ہو کر سامنے آئی ہے۔ فلسسطینیوں کے حق میں آج سنیچر کے روز لندن کی سڑکوں پر پھر بڑے مظاہرے کی تیاری ہے۔

برطانوی پولیس کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہود مخالف واقعات میں تقریباً دگنا اضافہ ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق یہ اضافہ پچھلے تین ہفتوں کے دوران ہوا ہے، جب ایک طرف اسرائیل کی بدترین بمباری کی زد میں غزہ کی 23 لاکھ زیادہ محاصرہ کی آبادی کے لیے دنیا بھر کے لوگوں میں ہمدردی کی ایک لہر ہے اور دوسری جانب اسرائیل پر سات اکتوبر کے اسرائیل کو ہلا کر رکھ دینے والے حملوں اور اسرائیلیوں کو لگ بھگ دو سو افراد غزہ میں قید رکھا گیا ہے۔

اب تک اسرائیل کی تیسرے ہفتے تک پہنچی بمباری کے نتیجے میں سات ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے ہیں جن میں تین ہزار سے زائد فلسطینی بچے ہیں۔ جبکہ اسرائیل کا جانی نقصان شروع میں ہی ہوا جو 1400 ہلاکتوں کی صورت ہوا۔ اس صورت حال میں امریکہ کی طرح برطانیہ میں بھی ایک تشویشناک فضا پائی جاتی ہے۔

ایک طرف اسلامو فوبیا جو درحقیقت اسلام اور اس کے ماننے والوں سے نفرت کے کئی طریقوں کا ایک مجموعی نام ہے میں بھی ماہ اکتوبر میں اضافہ ہو گیا اور دوسری جانب یہود مخالف واقعات جو عام طور پر امریکہ و مغربی ممالک میں بہت کم ہوتے ہیں ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

لندن پولیس کے کمانڈر کیلے گورڈن کے مطابق پچھلے سال اس دورانیے میں یہود مخالف واقعات کی تعداد 28 تھی اور اب 2023 میں ماہ اکتوبر کے انہی دنوں میں یہ اب تک تعداد 408 ہو چکی ہے۔ اس کے مقابلے اسلام مخالف واقعات کو گذشتہ سال انہی دنوں میں 65 ہوئے تھے اب تک 174 درج کیے جا چکے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ پچھلے ہفتے اس موضوع پر پولیس نے جو اعداد وشمار دیے تھے اب اکتوبر کے تیسے ہفتے تک یہ ان سے بھی دو گنا ہو چکے ہیں۔ یہ فضا غزہ میں جاری بے رحم بمباری اور اس سے متعلق دوسرے غیر انسانی اقدامات کی وجہ سے ہے۔ ادھر میں پولیس کے ذمہ دار کیلے گورڈن نے شہریوں کے درمیان تقسیم اور نفت کے بڑھتے ہوئے ماحول میں ان واقعات کو بے رحمی سے کچلنے کا عندیہ دیا ہے۔

برطانیہ کی پولیس اب تک 75 افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ فلسطینیوں کے حق میں اب تک مظاہرے کی صورت میں ایک لاکھ کی تعداد تک کا اظہار یکجہتی سامنے آ چکا ہے۔ لندن پولیس چیف مارک رولے نے حکومت کے ذمہ داروں سے ملاقات میں تجویز دی ہے کہ اگر حکومت ان مظاہرین سے زیادہ سختی سے نمٹنا چاہتی ہے تو حکومت کو نئے قانون بنانا ہوں گے۔

لندن پولیس کے ذمہ دار کیلے گورڈن کے مطابق آج بروز سنیچر فلسطینیوں کی حمایت میں ایک اور بڑے احتجاجی مظاہرے کو کنٹرول کرنے کے لیے 2000 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

پولیس نے انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت سوشل میڈیا کو بھی دیکھنا شروع کیا ہے تاکہ اس نوعیت کی نا مطلوب سرگرمیوں کا آن لائن بھی پیچھا کیا جاسکے۔ کمانڈر دہشت گردی پولیس کا کہنا ہے اب تک اس سلسلے میں دس تحقیقات شروع کی جا چکی ہیں۔

واضح رہے امریکہ کے بعد برطانیہ کی حکومت اسرائیل کے لیے اس مشکل گھڑی میں پوری طرح اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک میں اسرائیل کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیل کا دورہ بھی کیا ہے۔ ان کے دورے کو اسرائیل میں بہت پذیرائی ملی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں