مشرق وسطیٰ

نیویارک پولیس کا غزہ میں سیز فائر کے حامی یہودی احتجاج پر دھاوا، متعدد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پولیس اور منتظمین نے بتایا کہ جمعہ کو سینکڑوں افراد کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب پولیس نے یہودی نیو یارکرز کے ایک بڑے مظاہرے کو تتر بتر کر دیا۔ ان مظاہرین نے غزہ پر اسرائیل کی بمباری کے خلاف احتجاج میں گرینڈ سینٹرل سٹیشن کے مرکزی ہال پر قبضہ کر لیا تھا۔

محکمۂ پولیس نیویارک نے کہا کہ کم از کم 200 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ احتجاج کے منتظمین نے یہ تعداد 300 سے زیادہ بتائی ہے۔

جائے وقوعہ سے لی گئی تصاویر میں نوجوان لوگوں کی طویل قطاریں نظر آ رہی تھیں جو ہتھکڑیوں میں اور سیاہ موٹے کپڑے کی ٹی شرٹس پہنے ہوئے کھڑے تھے جن پر سفید رنگ میں "ہمارے نام پر نہیں" اور "اب جنگ بندی کر دو" کے الفاظ درج تھے۔

بڑے پیمانے پر دھرنے کی کال جیوئش وائس فار پیس- نیویارک سٹی نامی گروپ نے دی تھی جس نے کہا کہ اس کے ہزاروں ارکان نے احتجاج میں شرکت کی اور شہر کے مرکزی ریلوے سٹیشن کے بڑے داخلی راستے کو بند کر دیا۔

تصاویر میں دکھایا گیا کہ ٹرمینل مظاہرین کے ہجوم سے کھچا کھچ بھرا تھا جنہوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے۔ ان پر لکھا تھا "فلسطینیوں کو آزاد ہونا چاہیے" اور "مرنے والوں کا ماتم کرو، زندہ لوگوں کے لیے جہنم کی طرح لڑو"۔

منتظمین نے پرامن دھرنے کو "20 سالوں میں نیویارک سٹی کی سب سے بڑی سول نافرمانی" قرار دیا۔

یہودیوں کے مذہبی پیشواؤں [ربیوں] نے سبت [ یعنی ہفتہ یہودیوں کا مقدس دن] کی مناسبت سے شمعیں روشن کر کے اور ہلاک شدگان کے لیے یہودی ماتمی دعا کی تلاوت کر کے تقریب کا آغاز کیا جسے کدش کہا جاتا ہے۔

منتظمین کے جاری کردہ ایک بیان میں ربی مے یے نے کہا، "جبکہ سبت عموماً آرام کا دن ہوتا ہے لیکن ہم آرام کے متحمل نہیں ہو سکتے جبکہ ہمارے ناموں پر نسل کشی ہو رہی ہے۔"

ربی نے کہا، "فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی زندگیاں باہم مربوط ہیں اور تحفظ صرف انصاف، مساوات اور سب کے لیے آزادی سے ہی آ سکتا ہے۔"

اسرائیلی حکام کے مطابق سات اکتوبر کو حماس کے مسلح افراد کے سرحد پار سے یلغار کرنے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کر دی۔ اس یلغار میں 1,400 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے اور 220 سے زیادہ کو اغوا کر لیا گیا۔

حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت نے جمعے کو کہا کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں میں اب تک 7,326 افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں سے 3,000 سے زیادہ بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں