اسرائیلی عائد کردہ شرائط امداد کے غزہ داخلے میں رکاوٹ بن رہیں: مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر نے غزہ کی پٹی میں امداد پہنچانے اور فلسطینی شہریوں کی مدد کرنے میں اسرائیل کی ہٹ دھرمی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مصری وزارت خارجہ کے ترجمان احمد ابو زید نے کہا مصر نے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے داخلے میں تیزی لانے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور نہ ہی چھوڑے گا۔ تاہم اسرائیلی فریق کے اقدامات امداد کے داخلے میں رکاوٹ ہیں۔

غزہ کی پٹی میں انسانی ہمدردی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور مصر میں امدادی قافلوں کے جمع ہونے کے باوجود غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے داخلے میں تاخیر کی وجوہات کے جواب میں ابو زید نے زور دے کر کہا کہ اسرائیلی رکاوٹیں غزہ کے داخلے میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ غزہ کی پٹی میں امداد کی منتقلی کے عمل کو اسرائیلی طرف سے مسلط کردہ بڑے لاجسٹک مسائل کا سامنا ہے۔ اسرائیلی شرائط میں ایک شرط یہ رکھی گئی ہے کہ مصری العوجہ کراسنگ کے بالمقابل اسرائیلی "نتسانہ" کراسنگ پر بسوں کی تلاشی لی جانی چاہیے۔

پھر بسیں رفح کراسنگ کی طرف سفر کرتی ہیں جو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے سے پہلے 100 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ اس سے افسر شاہی پر بوجھ اور رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں اور بسوں کا داخلہ تاخیر کا شکار ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ معائنہ کے طریقہ کار میں اسرائیلی جانب سے بہت سختی برتی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیل سیاسی تحفظات اور مختلف سکیورٹی الزامات کی وجہ سے بہت سی امداد کو داخل ہونے سے روک دیتا ہے۔ اس کے علاوہ معائنے کے طریقہ کار میں سست روی برتی جاتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہر کسی کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ غزہ کی پٹی میں امداد کے داخلے میں تاخیر کا سبب کون ہے۔ انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ ان رکاوٹوں کو ختم کرے تاکہ امداد کو تیزی سے غزہ میں بھیجا جا سکے۔ مصری فوڈ بینک نے تصدیق کی کہ اس نے اب تک 41 امدادی ٹرک بھیجے ہیں اور 100 اضافی ٹرک بھیجنے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے کہا غزہ کو روزانہ 100 سے زیادہ ٹرکوں کی ضرورت ہے۔ یاد رہے اب تک 84 ٹرک اس کراسنگ سے غزہ کی پٹی میں داخل ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں