ایردوان کے سخت بیانات کے بعد اسرائیل نے ترکیہ سے سفارت کاروں کو واپس بلا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کے سخت بیانات کے بعد اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کا از سر نو جائزہ لینے کے لیے ترکیہ سے اپنے ملک کے سفارتی نمائندوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایلی کوہن نے ’’ایکس‘‘ پر کہا کہ ترکیہ کی جانب سے جاری خطرناک بیانات کے پیش نظر میں نے اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینے کے لیے وہاں سے سفارتی نمائندوں کی واپسی کا حکم دیا ہے۔ ترک صدر ایردوان نے استنبول میں فلسطینیوں کی حمایت میں نکالی گئی ریلی میں اسرائیل پر کڑی تنقید کی تھی۔

ایردوان نے کہا کہ وہ اسرائیل کے بارے میں ایک جنگی مجرم کے طور پر دنیا کے سامنے حقیقت ظاہر کریں گے۔ انھوں نے اسرائیل کی حمایت کرنے والے مغرب کو بھی غزہ میں ہونے والے قتل عام کا مرکزی ملزم قرار دیا۔ ایردوان نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ اسرائیل کو "پاگل پن" کی حالت ختم کرکے غزہ کی پٹی پر اپنے حملے بند کردینا چاہیں۔ ایردوان نے مغرب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کیا تم پھر صلیبی جنگیں لڑنا چاہتے ہو؟

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں