غزہ جنگ ایک خوفناک ’خواب‘ متحارب فریقین فوری جنگ بندی کریں:آنتونیو گوتریس

غزہ میں ہر گذرتے لمحے تباہی اور بربادی میں اضافہ ہو رہا ہے: سربراہ اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتریس نے اتوار کے روز خبردار کیا کہ غزہ کی پٹی میں صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے خونریزی کے "ڈراؤنے خواب" کو ختم کرنے کے لیے ایک بار پھر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

نیپالی دارالحکومت کھٹمنڈو کے دورے کے دوران گوتریس نے کہا کہ "غزہ کی صورتحال ہر گذرتے گھنٹے سے زیادہ مایوس کن ہوتی جا رہی ہے۔اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی برادری کی حمایت میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کا اعلان کرنے کے بجائے اپنی فوجی کارروائیاں تیز کردی ہیں جو انتہائی افسوسناک ہیں، اس قت غزہ میں بمباری کی نہیں فوری جنگ بندی کی اشد ضرورت ہے"۔

گوتریس نے کہا کہ "شہریوں کو نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابل قبول ہے"۔ گوتریس نے کہا کہ "دنیا ہماری نگرانی میں ایک انسانی تباہی کا مشاہدہ کر رہی ہے"۔ انہوں نے مزید کہا 20 لاکھ سے زائد افراد زندگی کی بنیادی ضروریات خوراک، پانی، پناہ گاہ، اور طبی ضروریات سے محروم ہیں'۔

گوتریس قطر میں مذاکرات کے بعد چار روزہ دورے پر نیپال پہنچے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "میں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی اور غزہ کے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مسلسل انسانی امداد کی فراہمی کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہوں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ"ہمیں غزہ، اسرائیل اور نیپال سمیت دنیا بھر میں متاثرہ لوگوں کے لیے اس ڈراؤنے خواب کو روکنے کے لیے اکٹھا ہونا چاہیے"۔

خیال رہے کہ غزہ کی پٹی پر سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک آٹھ ہزار فلسطینی شہید اور بیس ہزار کے قریب زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیل غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف جاری آپریشن کی آڑ میں طاقت کا اندھا دھند استعمال کررہا ہے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہریوں بالخصوص خواتین اور بچوں کی اموات ہو رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں