غزہ جنگ کے نئے مرحلے میں ہماری افواج زمین پر کام کر رہی ہیں: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف ہرزی ہیلیوی نے کہا ہے کہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی خونی شب کے بعد اسرائیلی فوج غزہ پر جارحیت کے نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے اور اس نئے مرحلے میں غزہ کے اندر زمینی محاذ پر بھی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی بمباری کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی زمینی افواج غزہ میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جس سیکٹر پر بمباری کی جاتی ہے اسی میں زمینی کام بھی انجام دیا جاتا ہے۔

ہیلیوی نے ٹیلی ویژن پر نشر پیغام میں مزید کہا کہ اس جنگ کے مختلف مراحل ہیں، آج ہم دوسرے مرحلے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہماری افواج اس وقت غزہ کی پٹی میں زمین پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم غزہ میں داخل ہوئے بغیر حماس کو تباہ نہیں کر سکتے۔ اسرائیل یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔

اسرائیلی جنرل کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب العربیہ کے نامہ نگار نے غزہ کے متعدد علاقوں پر دوبارہ پرتشدد اسرائیلی حملوں سے آگاہ کیا ہے۔ ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ شہر میں شہریوں کو خبردار کیا کہ ان کا علاقہ اب "میدان جنگ" بن چکا ہے۔ حماس کے خلاف فضائی حملے تیز کئے جارہے ہیں، اس تناظر میں عام لوگ غزہ سٹی سے نکل جائیں۔

اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی میں پمفلٹ گرائے۔ ان پمفلٹس میں کہا گیا کہ غزہ کی پٹی، شمالی غزہ اور غزہ گورنری کے رہائشیوں کو بتایا جاتا ہے کہ آپ کا علاقہ اب میدان جنگ بن چکا ہے۔ شمالی غزہ اور غزہ کی گورنری میں پناہ گاہیں غیر محفوظ ہوگئی ہیں۔ اس لیے فوری طور پر علاقہ خالی کردیا جائے۔

بعد ازاں اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس کے فوجی جمعہ کو کئی در اندازیوں کے بعد ہفتے کی شام کو غزہ میں اپنی زمینی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایک بیان میں کہا گیا کہ جمعہ کی شام کے اوائل سے ہی ٹینکوں، انجینئروں اور پیادہ فوج کی ایک مشترکہ فورس شمالی غزہ کی پٹی میں زمین پر کام کر رہی ہے۔ کمانڈر جنرل ہیلیوی نے ایک تقریر میں کہا کہ ہماری افواج غزہ کی پٹی میں مضبوط اور درست توپ خانے کے ساتھ زمینی آپریشن کر رہی ہیں۔

واضح رہے غزہ کی پٹی میں 7 اکتوبر سے اسرائیلی بمباری جاری ہے۔ 7703 فلسطینی شہید کئے جا چکے ہیں۔ پٹی میں لگ بھگ 24 لاکھ افراد آباد ہیں۔ اتنی بڑی آبادی کا رابطہ دنیا سے منقطع کردیا گیا ہے۔ موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ معطل کردیا گیا ہے۔ پٹی میں خوراک، پانی اور بجلی کی ترسیل بھی روک دی گئی ہے۔ ایندھن کا داخلہ بھی روک دیا گیا ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق غزہ میں بمباری روک بھی جائے تو بڑے انسانی المیے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس جنگ میں اب تک 1400 اسرائیلی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں