فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کا غزہ پر حملہ بین الاقوامی قانونی حد سے زیادہ ہو گیا: وزیر اعظم ناروے

ناروے کو فلسطین امن عمل میں کردار ملنے کا پھر امکان ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ناروے نے اسرائیل کی غزہ پر بمباری کے تین ہفتے مکمل ہونے اور ہزاروں بچوں اور عورتوں سمیت آٹھ ہزار سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکتوں کے بعد غزہ پر اسرائیلی حملوں کو اپنے حق سے متجاوز قرار دیا ہے۔

ناروے کے وزیر اعظم نے کہا سات اکتوبر کے حماس کے حملوں کے جواب میں اسرائیلی حملے غیر متناسب تھے۔ دو روز قبل فلسطینی وزارت صحت نے غزہ میں عام فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہزار ہو چکی بتائی تھی۔ ان میں سے کم از کم نصف تعداد کم سن اور نو عمر بچوں کی شامل ہے۔

وزیر اعظم ناروے جونز گھار نے ایک نارویجن ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ' بین الاقوامی قانون یہ تقاضا کرتا ہے کہ جوابی حملہ بھی متجاوز نہیں ہونا چاہیے۔ عام لوگوں کو لازماً ہلاکتوں کی ضرور پرواہ کی جانی چاہیے۔ اس بارے میں بین الاقوامی قانون بہت واضح ہے۔ میرے خیال میں اسرائیل نے اس حد کو روندا ہے۔'

انہوں نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ غزہ میں ہلاکتوں میں نصف تعداد بچوں کی شامل ہے۔ بلاشبہ اسرائیل کو جواب دینے کا حق تھا لیکن ایک گنجان علاقے کی طرف سے بھی ایسے حملوں کا دفاع کرنا مشکل ہے جو کیے گئے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا اب بھی 'غزہ سے اسرائیل پر راکٹ حملے جاری ہیں ۔ ہم ان کی مذمت کرتے ہیں۔ '

دوسری جانب ناروے کے وزیر خارجہ 'ایسین بارتھ 'نے ٹی وی 2 سے بات کرتے ہوئے کہا ' ناروے مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات کے حوالے سے اپنی ذمہ داری نبھانے کو تیار ہے، ان کا کہنا تھا' اگر ناروے سے اس بارے میں کہا گیا تو ناروے اس سلسلے میں تیار ہے۔'

واضح رہے اس سے قبل امریکی سرپرستی اور رہنمائی میں ناروے نے اوسلو معاہدہ کروانے میں کردار ادا کیا تھا۔ تاہم اوسلو معاہدے کے بعد دو ریاستی حل کی جانب پیش رفت ہو سکی نہ معاہدے کی دوسری بہت سی شقوں پر اسرائیل نے عمل کیا۔ البتہ فلسطینی ریاست کے تصور کو عملی طور پر فلسطینی اتھارٹی کے خول میں بند کر دیا گیا۔

اب پھر امکان ہے کہ ناروے کو اس معاملے میں متحرک کیا جائے گا ، کیونکہ یورپی ملکوں میں سے ایک ناروے بھی ہی جس نے فلسطین ایشو پر اسی ہفتے سامنے آنے والی 'نان بائنڈنگ ' قرار داد کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی 'نان بائنڈنگ ' قرار داد رسمی اور محض ایم سفارشی نوعیت کی ہوتی ہے۔ جس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بھی یہ عالمی ادارہ کوئی کارروائی نہیں کرتا ہے۔ تاہم اس سے ادارے اور اس قرار داد کا حصہ بننے والے ملکوں کی اخلاقی حیثیت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں