فلسطینی شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے: امریکہ، بائیڈن اور نتین یاھو کی فون پرگفتگو

نیتن یاہو کی ذمہ داری ہے وہ مغربی کنارے میں عربوں پر حملہ کرنے والے آباد کاروں کو کنٹرول کریں: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ غزہ میں آپریشن کے دوران ہزاروں فلسطینی مارے گئے ہیں۔ شہریوں کے تحفظ کی حمایت پر زور دیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے اتوار کو اعلان کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر جو بائیڈن سے بات کی ہے۔ جنگ کے 23 ویں روز اسرائیل نے غزہ پر زمینی دراندازی جاری رکھی ۔ فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے بتایا گیا کہ 23 روز میں 8005 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

جیک سلیوان نے سی این این سے گفتگو میں کہا امریکی انتظامیہ نے شہریوں کے تحفظ کے بارے میں اسرائیلیوں سے بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس نے شہریوں کو یرغمال بنایا اور شہریوں کے درمیان توپیں رکھ دیں لیکن یہ کوئی بہانہ نہیں ہے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جانا ضروری ہے۔ جیک سلیوان نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اسرائیلیوں کو شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کرنے چاہییں۔

امریکی عہدیدار نے کہا کہ مذاکرات پر بات چیت جاری ہے۔ حماس مغویوں کی رہائی کے معاملے پر واضح نہیں ہے۔ سلیوان نے مزید کہا کہ مصر اور اسرائیل غزہ سے امریکیوں اور غیر ملکیوں کے نکلنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں لیکن حماس شرائط طے کر رہی ہے۔

جیک سلیوان نے کہا کہ مغربی کنارے میں عربوں پر حملہ کرنے والے آباد کاروں کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری بھی نیتن یاہو کی ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ وہاں احتساب ہو گا۔ اسی طرح فرانس نے اسرائیل سے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی حفاظت کا مطالبہ کیا ہے۔ فرانس کی وزارت خارجہ نے اتوار کو کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد کو روکنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں متعدد فلسطینی شہریوں کو مغربی کنارے میں جاں بحق کیا جا چکا اور متعدد کو بے گھر کردیا گیا ہے۔

وزارت نے ایک بیان میں مزید کہا کہ فرانس نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی آبادی کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کریں۔ آباد کار فلسطینیوں کو مغربی کنارے سے نکالنے کے لیے غزہ کی جنگ کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

یاد رہے 12 اکتوبر کو رملہ شہر کے مشرق میں واقع خربیت وادی السیق میں دو سو بدوؤں نے اپنی زمینیں چھوڑ کر قریبی گاؤں الطیب میں پناہ لی۔ اسرائیلی فوج نے انہیں وہاں سے نکلنے کے لیے ایک گھنٹے کا وقت دیا تھا۔

حماس نے غزہ کی پٹی کی سرحد پر واقع اسرائیلی قصبوں پر اچانک زمینی، فضائی اور سمندری حملہ کیا تھا۔ حملے کے پہلے دن 1,400 اسرائیلی افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔ حماس نے اسرائیل کے 229 افراد کو یرغمال بھی بنا لیا ہے۔ یاد رہے 4 لاکھ 90 ہزار سے زیادہ یہودی آباد کار مغربی کنارے میں مقیم ہیں۔

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (OCHA) کے مطابق مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف روزانہ تشدد کے آٹھ واقعات ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور کے مطابق مغربی کنارے میں موجودہ جنگ کے آغاز سے اب تک 7607 افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ بے گھر ہونے والوں میں سے نصف سے زیادہ بچے ہیں۔

اسرائیلی انسانی حقوق کے کارکن گائے ہرشفیلڈ نے اے ایف پی کو بتایا کہ جنگ کے آغاز سے ہی آباد کار فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان 1993 میں طے پانے والے اوسلو معاہدے کے مطابق ’’ سی‘‘ کی درجہ بندی کی گئی زمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں مزید کہا کہ آباد کار غیر یہودیوں کے علاقے C کو ختم کرنے کے لیے جنگ کا استحصال کر رہے ہیں۔ سی کیٹگری کی زمینیں مغربی کنارے کے رقبے کا 61 فیصد بنتی ہیں۔ ہرشفیلڈ نے بتایا کہ مغربی کنارے میں 150 مربع کلومیٹر کا علاقہ خالی کر دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں