فلسطین اسرائیل تنازع

مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور ہلاکتیں فرانس کے لیے بھی ناقابل قبول

یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں بڑھتی ہوئی فلسطینی ہلاکتوں کے واقعات کی فرانس نے مذمت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی یہودی آبادکاروں کے ہاتھوں ہلاکتیں ناقابل قبول ہیں۔ یہ بیان یہودی آباد کاروں کی طرف سے ساویہ اور قصرہ کے علاقوں میں فلسطینی مسلمانوں کے خلاف تازہ حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس مذمتی بیان کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ غزہ پر مسلسل بمباری کے نتیجے میں آٹھ ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادت اور جنگ بندی کی حمایت نہ کرنے کے باوجود فرانس بھی مغربی کنارے میں اسی اسرائیلی 'کھیل ' کو خطرناک سمجھتا ہے۔

ایک تازہ واقعے میں یہودی آباد کاروں نے 40 سالہ فلسطینی کو اس وقت شہید کر دیا جب وہ اپنے زیتون کے باغ میں کام کر رہا تھا۔ اس سے قبل ایک ہی واقعے میں یہودی آباد کاروں نے حملہ کر کے چار فلسطینیوں کو شہید کیا تھا۔

پچھلے تین ہفتوں میں مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی مجموعی ہلاکتیں ایک سو سے بڑھ چکی ہیں، تاہم مغربی کنارے میں اسرائیل بمباری کے واقعات اکا دکا ہی ہوئے ہیں۔ زیادہ تر شہادتیں یہودی آباد کاروں کے حملوں میں ہوئی ہیں۔

مغربی کنارے میں معمول یہ رہا ہے کہ اسرائیلی سیکورٹی فورسز کی حمایت سے یہودی آباد کاروں کے جتھے مسلمانوں کے علاقوں میں حملہ آور ہو کر انہیں نشانہ بناتے ہیں یا پھر سیکورٹی فورسز کے چھاپوں کے 'فالو اپ' کے طور پر یہودی آباد بھی حملوں اور کارروائیوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔

اس تناظر میں یہودی آباد کاروں کو مسلح کرنے کی اسرائیلی پالیسی کافی دیر سے جاری ہے، تاہم اب اسرائیل کے اندر اور اس کے حمایت میں متحرک رہنے والی حکومتوں میں بھی یہ رائے بن چکی ہے کہ اسرائیل نے جنگ کو بڑھاوا دیا تو اس کے لیے مشکلات کا دائرہ بھی بڑھ جائے گا ۔

مغربی ممالک میں برطانیہ اور فرانس سمیت کئی ملک اسرائیل کی بمباری روک کر جنگ بندی کے بھی مخالف ہیں لیکن وہ ایسے اقدامات سے باز رہنے کے حق میں ہیں جس سے اسرائیل کےلیے مشکلات میں اضافہ ہو اور عالمی سطح پر اسرائیلی واقعات کا ردعمل مختلف شکلوں میں ایسا آنا شروع ہو جائے کہ سنبھالنا مشکل ہو جائے۔

فرانسیسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں پچھلے چند دنوں میں ساویہ اور قصرہ میں یہودی آباد کاروں کے حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ ان واقعات میں متعدد فلسطینیوں کی ہلاکت بھی ہوئی ہے ، فرانس کی وزارت خارجہ کے بیان میں مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور انخلا کی بھی مذمت کی گئی ہے۔

واضح رہے اسرائیل کی انتہا پسندوں کی مدد سے قائم نیتن یاہو حکومت کے وزیر داخلہ اور وزیر سلامتی امور سمیت کئی وزیروں نے حکومت بنانے کےساتھ مغربی کنارے کے لیے اپنی خطرناک پالیسیوں اور اقدامات کا آغاز کر دیا تھا۔ ان اقدامات کے لیے یہودی آباد کاروں کو بھی پہلے سے زیادہ متحرک کر دیا گیا تاکہ فلسطینیوں کو بے دخل کرتے ہوئے ناجائز یہودی بستیوں کی تعمیر تیز تر کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں