ہندوستان قطرمیں سزائے موت کاسامناکرنے والےاپنےسابق بحریہ اہلکاروں کی رہائی کےلیےکوشاں

ہندوستانی میڈیا نے خبر دی کہ آٹھوں - اعلیٰ عہدے پر فائز اور تمغہ یافتہ سابق افسران بشمول کپتان جنہوں نے کبھی جنگی بحری جہازوں کی کمانڈ کی تھی - اگست 2022 میں دوحہ میں گرفتار کیے گئے تھے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ہندوستان کے وزیرِ خارجہ نے پیر کے روز کہا کہ ان کا ملک بحریہ کے آٹھ سابق اہلکاروں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے "تمام کوششیں" کرے گا جن کو قطر کی ایک عدالت کی طرف سے مبینہ طور پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت دی گئی ہے۔

سبرامنیم جے شنکر نے کہا کہ انہوں نے زیرِ حراست ہندوستانیوں کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور انہیں بتایا ہے کہ حکومت ان کے کیس کو "سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہے"۔

ہندوستانی میڈیا نے خبر دی کہ آٹھوں اعلیٰ عہدے پر فائز اور تمغہ یافتہ سابق افسران بشمول کپتان جنہوں نے کبھی جنگی بحری جہازوں کی کمانڈ کی تھی - اگست 2022 میں دوحہ میں گرفتار کیے گئے تھے۔

سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں جے شنکر نے کہا وہ "خاندانوں کے خدشات اور درد میں مکمل طور پر شریک ہیں" اور یہ کہ "حکومت ان کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے تمام کوششیں جاری رکھے گی"۔

قطر نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور نہ ہی الزامات کو عام کیا گیا ہے۔

ہندوستانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل آر ہری کمار نے پیر کو صحافیوں کو بتایا، حکومت کی طرف سے "ہمارے اہلکاروں کے لیے ریلیف حاصل کرنے" کی غرض سے "ہر کوشش" جاری ہے۔

یہ سزائیں گذشتہ ہفتے ہی سامنے آئیں جب ہندوستان کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے پر "حیران" تھی۔

حکومتی ویب سائٹ کے مطابق یہ آٹھ افراد خلیج میں قائم ایک کمپنی الدہرہ کے ملازم تھے جو ایرو اسپیس، سلامتی اور دفاع کے شعبوں کے لیے "مکمل سپورٹ سلوشنز" پیش کرتی ہے۔

دی ہندو اخبار نے اطلاع دی ہے کہ یہ افراد ایک "تیسرے ملک" کے لیے جاسوسی کر رہے تھے جب کہ ٹائمز آف انڈیا نے کہا ہے کہ "مختلف رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کا الزام لگایا گیا۔"

اسرائیلی حکومت نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ان افراد میں سے ایک کی بہن میتو بھارگوا نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔

روزنامہ انڈین ایکسپریس نے بھارگوا کے حوالے سے کہا۔ "میرے بھائی کی عمر 63 سال ہے۔ وہ اسرائیل کے لیے جاسوسی کیوں کرے گا؟ وہ اس عمر میں ایسی کوئی حرکت کیوں کرے گا؟"

انہوں نے کہا کہ وہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی "ذاتی مداخلت" حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔

گذشتہ ہفتے ہندوستانی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا وہ اس فیصلے کا معاملہ قطری حکام کے ساتھ اٹھائے گی اور قیدیوں کے لیے "تمام قونصلر اور قانونی مدد" جاری رکھے گی۔

قطر شاذ و نادر ہی پھانسی پر عمل درآمد کرتا ہے اور خلیجی ریاست پہلے کہہ چکی ہے کہ سزائے موت عمر قید کے برابر ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ملک نے 20 سال کے طویل وقفے کے بعد 2020 میں ایک نیپالی تارکِ وطن ملازم کو پھانسی دے تھی۔

نئی دہلی دوحہ کے ساتھ تاریخی طور پر دوستانہ تعلقات رکھتا ہے جو بھارت کو قدرتی گیس فراہم کرنے والا ایک اہم ملک ہے۔ قطر کی 2.8 ملین آبادی میں دو تہائی سے زیادہ تارکینِ وطن مزدور ہیں اور ان میں سے کئی ہندوستانی شہری ہیں۔

قطر جو حماس کے سیاسی بیورو کی میزبانی کرتا ہے اور اس نے غزہ کو مالی امداد فراہم کی ہے، فلسطینی مسلح گروپ اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے ثالثی کی کوششوں سے منسلک ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں