یو اے ای کی غزہ میں لڑائی روکنے کے لیے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی فوج اور حماس کے درمیان لڑائی کے دوران علاقائی سطح پر کشیدگی پھیلنے کے انتباہات کے جلو میں سلامتی کونسل آج پیر کو غزہ پر ایک اور ہنگامی اجلاس کی تیاری کر رہی ہے۔

امریکی ’سی این این‘ نیوز نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کا اجلاس متحدہ عرب امارات کی درخواست پر منعقد کیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور اور ہنگامی امداد کے کوآرڈینیٹر اور اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورک ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (UNRWA) کی بریفنگ سنے۔

سی این این نیٹ ورک نے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ متحدہ عرب امارات لڑائی کو "فوری انسانی بنیادوں پر روکنے" کے لیے سلامتی کونسل کے دیگر اراکین سے ایک پابند قرارداد جاری کرنے کی کوشش کرے گا۔

ایک بیان میں متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی زمینی کارروائیوں کی مذمت کی اور انسانی بحران کے بگڑنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔

ناکامی کے دو دور

سلامتی کونسل میں غزہ جنگ کے حوالے سے دو ہفتوں میں دو بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکا، فرانس اور برطانیہ نے روس کی طرف سے لڑائی روکنے کے لیے مسودہ قرارداد کو منسوخ کر دیا۔ روس اور چین نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کے لیےقرار داد پیش کی تو اسے امریکا نے ویٹو کردیا۔

سلامتی کونسل میں غزہ جنگ کے حوالے سے کسی قرارداد کی منظوری میں ناکامی کے عرصے کے دوران غزہ میں شدید بمباری کے نتیجے میں بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں۔

مصر کا اپنی زمین فلسطینیوں کو نہ دینے کا اعلان

مصری ایوان صدر نے اعلان کیا ہے کہ صدر عبدالفتاح السیسی نے کل اتوار کو اپنے امریکی ہم منصب جو بائیڈن کو یقین دلایا کہ مصر نے "بے گھر ہونے کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی دی جائے گی۔ مصری صدر کا کہنا تھا کہ غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا کوئی جواز نہیں اور مصر اپنی سرزمین مزید پناہ گزینوں کو نہیں دے گا۔

مصری صدارتی ترجمان نے کہا کہ صدر السیسی نے "اجتماعی سزا اور نقل مکانی کی پالیسیوں کو مسترد کرنے کے مصر کے پختہ موقف کی توثیق کی اور مصر نے فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی سے مصری سرزمین میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی ہے اور نہ ہی دے گا"۔

مصر نے زور دیا کہ رفح کراسنگ کے ذریعے مزید امدادی ٹرکوں کا غزہ میں داخلے کی اجازت دی جائے۔شمالی سیناء میں مصری ہلال احمر کے سیکرٹری جنرل نے اتوار کی شام 33 انسانی اور طبی امدادی ٹرکوں کو عبور کرنے کا اعلان کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ یہ "غزہ میں داخلے کے آغاز کے بعد سے رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والی سب سے بڑی کھیپ" ہے۔

مصر میں بھی، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے داخلے میں رکاوٹ ڈالنا "عدالت کے دائرہ اختیار کے تحت جرم ہو سکتا ہے"۔

انہوں نے قاہرہ میں ایک پریس کانفرنس میں رفح زمینی سرحدی کراسنگ کا دورہ کرنے کے بعد مزید کہا کہ اسرائیل کو "بغیر کسی تاخیر کے واضح کوششیں کرنی ہوں گی تاکہ شہریوں کو خوراک، ادویات اور بے ہوشی کی ادویات تک رسائی حاصل ہو۔ ہم نے سنا ہے کہ بنیادی ادویات کے بغیر سرجری کی جا رہی ہے، گویا ہم قرون وسطیٰ کے دور میں جی رہے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں