کیا اسرائیل کی یورپ کوفلسطینی پناہ گزینوں کے معاملے پرمصر پر دباؤ ڈالنے کی کوشش؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اگرچہ مصری حکومت اور صدر عبدالفتاح السیسی بار بار کہہ چکے ہیں وہ غزہ کی پٹی سے نقل مکانی کرنے والوں کو اپنی سرزمین جزیرہ نما سینا میں آباد کرنے کی کوئی تجویز قبول نہیں کریں گے، مگر ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو مختلف چینلز کے ذریعے اس مقصد کے لیے مصر پر دباؤ ڈالنے کی خاطر یورپ کو قائل کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق نیتن یاھو نے یورپ کے ذریعے مصر پر فلسطینی مہاجرین کو جگہ دینے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے یورپ کوقائل کرنے کی کوشش کی ہے۔

باخبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ نیتن یاہو "یورپی رہ نماؤں کو مصر پر غزہ کی پٹی سے پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں"۔

"غیر حقیقی"

برطانوی اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ نے باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ گذشتہ جمعرات اور جمعہ کو"یہ تجویز جمہوریہ چیک اور آسٹریا سمیت متعدد ممالک نے یورپی یونین کے رہ نماؤں کے سربراہ اجلاس کے دوران نجی بات چیت میں پیش کی تھی"۔

سینا کا منظر
سینا کا منظر

تاہم "اہم یورپی ممالک خاص طور پر فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے اس تجویز کو "غیر حقیقت پسندانہ" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا"۔

مخالفت کرنے والے یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ مصر غزہ سے فلسطینیوں کی اپنی میں نقل مکانی کی کسی بھی تجویز کو رد کر چکا ہے۔

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی اڈوں اور بستیوں پر حماس کے اچانک حملے کے بعد 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ کے پہلے دنوں سے مصر نے فلسطینیوں کو غزہ سے سینا تک جبری بے گھر ہونے کے خلاف خبردار کیا ہے۔

یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسرائیلی افواج نے شمالی غزہ کے رہائشیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جنوب کی طرف نکل اور جب تک انہیں واپسی کی اجازت نہ دی جائے واپس نہ آئیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سیناء کے بارے میں مصریوں کے خدشات نئے نہیں ہیں، بلکہ برسوں سے چلے آ رہے ہیں، لیکن جب بھی غزہ کی پٹی ایک نئی جنگ کا مشاہدہ کرتی ہے وہ خدشات منظر عام پر آتے ہیں۔

غزہ کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ پر مصری فوج کے ارکان - فرانس پریس
غزہ کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ پر مصری فوج کے ارکان - فرانس پریس

گریٹر غزہ؟!

غزہ کے حوالے سے ایک پرانا منصوبہ جسے "عظیم تر غزہ" کے نام سے جانا جاتا ہے سنہ 2004ء میں اس وقت کے اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر جیورا آئلینڈ نے تجویز کیا تھا۔ اس میں ایک "عظیم تر غزہ ریاست" کا قیام ہے۔ اس میں غزہ کا کچھ علاقہ اسرائیل کو دینے اور مصر کے جزیرہ نما سینا کا کچھ حصہ غزہ میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

منصوبے کے مطابق غزہ کی پٹی کا رقبہ بڑھا کر تین گنا کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس لیے سابق اہلکار نے 600 مربع کلومیٹر سینا کوغزہ میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں