امریکی افواج پر حملوں سے ایران کے ساتھ تصادم کا خطرہ ہے: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

شرقِ اوسطٰ میں امریکی فوجیوں پر بار بار ہونے والے حملوں سے یہ خدشہ ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ تنازعہ کی طرف جا سکتا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن اسرائیل-حماس لڑائی کو علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے پھر بھی ایسا ہونا ممکن ہے۔

امریکہ نے راکٹ اور ڈرون حملوں میں اضافے کا الزام - 17 اکتوبر سے عراق میں کم از کم 14 اور شام میں نو - ایران کی حمایت یافتہ افواج پر عائد کیا ہے اور گذشتہ ہفتے شام میں ان مقامات پر حملے کیے جن کا تعلق پینٹاگون کے مطابق تہران سے ہے۔

گولہ باری کی زبردست طاقت واشنگٹن کے تصرف میں ہے لیکن حملوں کے خلاف اس کا فوجی ردِعمل اب تک ان حملوں تک محدود رہا ہے -- جن کے بارے میں پینٹاگون نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ان حملوں سے جانی نقصان نہیں ہوا ہے – اور یہ ایک وسیع تر تنازعے کو واقع ہونے سے روکنے کی ممکنہ کوشش ہو سکتی ہے۔

ایک سینئر امریکی دفاعی اہلکار نے پیر کو کہا، "ہم ایران کے خطرے کے نیٹ ورک کے تمام عناصر کے بارے میں فکر مند ہیں جو اپنے حملوں میں اس طرح اضافہ کر رہے ہیں جس سے غلط حساب کتاب کا خطرہ ہو یا خطے میں جنگ چھڑ جائے۔"

اہلکار نے کہا۔ "علاقائی جنگ میں ہر کوئی ہارتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم شراکت داروں کے ذریعے، اتحادیوں کے ساتھ، فون لائنوں پر کام کر رہے ہیں اور علاقائی تنازعات کو روکنے کی خواہش کو واضح کرنے کے لیے کوششوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔"

واشنگٹن نے کہا ہے کہ اس کے فوجیوں پر حملے اسرائیل اور حماس کے موجودہ تنازعہ سے الگ ہیں جو اس ماہ کے آغاز میں شروع ہوا تھا جب عسکریت پسند گروپ نے غزہ سے ایک غیر متوقع سرحد پار حملہ کیا تھا جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1,400 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

لیکن ایران نے پیر کو کہا کہ امریکی افواج پر حملے "غلط امریکی پالیسیوں" بشمول اسرائیل کی حمایت کا نتیجہ ہیں جس کی جوابی اور انتقامی بمباری میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 8,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

حماس گروپ جو کسی زمانے میں عراق اور شام دونوں ممالک کے اہم علاقوں پر قابض تھا، اس کی بحالی کو روکنے کی کوششوں کی غرض سے عراق میں تقریباً 2,500 اور شام میں تقریباً 900 امریکی فوجی موجود ہیں۔

ان فورسز پر حالیہ حملوں سے ہونے والا نقصان اب تک محدود ہے -- 21 امریکی اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں اور ایک ٹھیکیدار خوف و دہشت سے دل کا دورہ پڑنے سے مر گیا جو غلط الارم بجنے کی وجہ سے ایک جگہ پناہ لیے ہوئے تھا -- لیکن حالات کے مزید خراب ہونے کے اچھے خاصے امکانات ہیں۔

آر اے این ڈی میں ایک سینیئر دفاعی محقق جیفری مارٹینی نے کہا، "اسرائیل-حماس جنگ کے پھیل جانے کی وجہ سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا کافی خطرہ ہے،" اور یہ یا تو تہران کی ہدایت پر یا اس کے پراکسی کے اپنے طور پر فیصلہ کرنے کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔"

مارٹینی نے کہا، ایران کے پاس عراق اور شام دونوں میں پراکسی فورسز ہیں جنہوں نے ماضی میں بارہا امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے – جو حالیہ واقعات سے قبل رک گیا تھا کیونکہ واشنگٹن "علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ غیر رسمی سمجھوتے" تک پہنچ گیا تھا۔

سنٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (مرکز برائے تزویراتی و بین الاقوامی علوم) میں شرقِ اوسطٰ پروگرام کے ڈائریکٹر جون الٹرمین نے کہا، موجودہ صورتِ حال حملوں کے ماضی کے سلسلے سے مختلف ہے کیونکہ "ایسا لگتا ہے کہ ایران کے تمام پراکسی بیک وقت اس کارروائی میں شامل ہو رہے ہیں" جس سے کچھ غلط ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

امریکہ نے بارہا کہا ہے کہ وہ اسرائیل-حماس کی جنگ کو ایک وسیع تر تنازعہ بننے سے روکنا چاہتا ہے اور روک تھام کی کوشش میں اس نے خطے میں اپنی افواج کو تقویت دی ہے -- بشمول ایک طیارہ بردار اسٹرائیک گروپ کے ساتھ جو وہاں موجود ہے اور دوسرا وہاں پہنچنے کے قریب ہے۔

الٹرمین نے فوجیوں پر حملوں کے امریکی ردعمل کے بارے میں کہا، "واشنگٹن پسپائی اختیار کرنے کی کوشش میں ہے اور ساتھ ہی یہ واضح کر رہا ہے کہ اسے اس کی ضرورت نہیں ہے"۔ انہوں نے یہ نوٹ کیا کہ تسدید (روک تھام) کے لیے "بہت زیادہ نقصان پہنچانے کی صلاحیت اور آمادگی دونوں کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے۔"

"امریکی نقطۂ نظر سے اس معاملے میں چیلنج یہ ہے کہ اگر آپ کبھی بھی یہ نقصان نہیں پہنچاتے تو آپ کا مخالف آپ کی آمادگی پر شک کرتا ہے لیکن اگر یہ نقصان پہنچاتے ہیں تو آپ ایک پھیلتے ہوئے گرداب میں پھنس سکتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں