انقرہ سے سفارت کاروں کا انخلا،کیا ترکیہ اوراسرائیل میں سفارتی تعلقات بگڑ رہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل نے ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن کی طرف سے فلسطینی تنظیم حماس کی کھل کر حمایت کرنے کے بعد انقرہ سے اپنے کچھ سفارتی نمائندوں کو واپس بلا لیا۔

ترک صدر نے اسرائیل اور اس کی غزہ پر جنگ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ترکیہ اور اسرائیل کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں؟ جو مشکل سے ایک سال قبل ہی ایک عشرے سے زاید عرصے کے بعد تعلقات بحال کیے گئے تھے۔

ایک ترک سیاسی تجزیہ کار کا خیال ہے کہ "ترکیہ اسرائیل کے حالیہ ردعمل پر قابو پانے کی کوشش کرے گا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرے گا"۔

تجزیہ کار بانگی بشیر نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘کو بتایا کہ "مجھے یقین ہے کہ ہمارے ملک کی حکومت اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرے گی۔ ہمارے خطے میں اس کے ساتھ امن قائم رکھنا ضروری ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جو جنگ شروع ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ طویل عرصے تک جاری رہے گی۔ اس کے اثرات مشرق وسطیٰ اور دوسرے ممالک تک پھیل سکتے ہیں۔ اسی لیے ترکیہ کو محتاط اور چوکنا رہنا چاہیے۔ حکومت ایسا ہی کر رہی ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ترک صدر اپنے ووٹروں اور مداحوں کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو غزہ میں ہونے والے مقامی انتخابات سے قبل ہونے والے واقعات پر ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس لیے انہوں نے اسرائیل پر کڑی تنقید کی، حالانکہ وہ تنازع کے دونوں فریقوں کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ترک دانشورنے اس بات تاثر کو رد کرد یا کہ ایردوآن کے اسرائیل پر تنقید پر مبنی بیانات انقرہ اور تل ابیب کے درمیان سفارتی تعلقات کو منقطع کرنے کا باعث بنیں گے۔ انقرہ کی جانب سے تل ابیب کے خلاف کسی بھی بڑھتے قدم کے ترکیہ کی معیشت پر تباہ کن اثرات بھی ہوسکتے ہیں۔

ترک صدر نے دو روز قبل استنبول میں فلسطینیوں کی حمایت میں نکالی گئی ریلی کے دوران اسرائیل پر شدید تنقید کی تھی۔ اس ریلی میں لاکھوں اسرائیل مخالف لوگوں نے شرکت کی۔

گذشتہ ہفتے کے روز ایردوآن نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے بارے میں ایک جنگی مجرم کے طور پر دنیا کے سامنے حقیقت ظاہر کریں گے۔ انھوں نے مغرب کو جو اسرائیل کی حمایت کرتا ہے کو غزہ میں ہونے والے "قتل عام" کا مرکزی ملزم قرار دیا۔

قبل ازیں گذشتہ جمعے کو ایردوآن نے کہا تھا کہ اسرائیل کو ’پاگل پن‘ختم کرنا چاہیے اور غزہ کی پٹی پر اپنے حملے بند کرنے چاہئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں