حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کے معاملے پرتھائی وزیرِ خارجہ کاقطر اورمصر کا فوری دورہ شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل پر حملے میں حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے 22 تھائی باشندوں کی قسمت پر بات چیت کے لیے تھائی لینڈ کے وزیرِ خارجہ نے منگل کو قطر اور مصر کا ہنگامی دورہ شروع کیا۔

اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ حماس کی جانب سے 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر حملے میں 1400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

جواب میں اسرائیلی فوج نے غزہ پر یلغار کر دی جہاں وزارتِ صحت کے مطابق 8,300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے - جن میں 3,000 سے زیادہ بچے ہیں۔

بنکاک میں وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق غزہ میں حماس کے ہاتھوں 230 سے زائد افراد یرغمال ہیں – جن میں سے 22 تھائی باشندے ہیں۔

تھائی وزیرِ اعظم سریتھا تھاوسین نے پیر کو کہا کہ ان کی حکومت تھائی شہریوں کی وطن واپسی کے لیے سخت محنت کر رہی ہے۔

بدھ کو مصری وزیرِ خارجہ کے ساتھ بات چیت سے قبل انہوں نے تھائی وزیرِ خارجہ پرنپری بہدہ-نوکارا کو منگل کو قطری وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سے ملاقات کے لیے روانہ کیا ہے۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ پرنپری "اسرائیل اور غزہ میں جاری تشدد کے نتیجے میں یرغمال بنائے گئے تھائی شہریوں کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کریں گے۔"

جب تنازعہ شروع ہوا تو تقریباً 30,000 تھائی باشندے اسرائیل میں کام کر رہے تھے جن میں سے بہت سے زرعی شعبے میں تھے۔

وزارت کے مطابق اس تنازعے میں کم از کم 32 تھائی باشندے ہلاک اور 19 زخمی ہوئے ہیں۔

سریتھا نے پیر کو ہمسایہ ملک لاؤس کے دورے سے قبل نامہ نگاروں کو بتایا کہ "ہم جنگ کے متأثرین کی طرح ہیں۔ ہم زیادہ متأثر ہوئے ہیں کیونکہ اسرائیل میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں تھائی لینڈ کے زیادہ کارکنان ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں