غزہ بم دھماکے عالمی ضمیر پر 'داغ': متحدہ عرب امارات کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

متحدہ عرب امارات نے پیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے اجلاس میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں ہلاک ہونے والے بچوں کی خطرناک تعداد دنیا کے اخلاقی ضمیر پر ایک "داغ" ہے۔

اقوامِ متحدہ میں متحدہ عرب امارات کی مستقل نمائندہ لانا نسیبہ نے کہا کہ فلسطینیوں کی جانیں مساوی تحفظ کی مستحق ہیں۔ اور انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں گذشتہ تین ہفتوں کے دوران ہلاک ہونے والے فلسطینی بچوں کی تعداد گذشتہ چار سالوں میں عالمی سطح پر تنازعات میں ہلاک ہونے والے بچوں کی کل تعداد سے زیادہ ہے۔

انہوں نے غزہ میں ہلاک شدہ 3,457 بچوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "اور کچھ نہیں تو اس سے ہمارے اخلاقی ضمیر کو ضرور داغدار ہونا چاہیے۔ ہمیں ابھی جنگ بندی کی ضرورت ہے۔"

متحدہ عرب امارات نے کونسل کے عرب نمائندے کے طور پر پیر کے روز ایک پابند قرارداد کی جستجو میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اس میں مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل غزہ میں لڑائی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تؤقف قبول کرے۔

متحدہ عرب امارات 2022-2023 کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے۔

27 اکتوبر کی جنرل اسمبلی کے ووٹ کا حوالہ دیتے ہوئے نسیبہ نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی کونسل غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تؤقف کے لیے جنگ بندی کی حامی اقوام کی بھاری اکثریت کو نظر انداز کر رہی تھی۔

انہوں نے کہا، "طبلِ جنگ بج رہے ہیں۔" اور مزید کہا کہ اگر کونسل اسرائیل کو جنگ جاری رکھنے دے تو یہ اس کی سلامتی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

"ہم اور 121 ممالک جس راستے کی وکالت کر رہے ہیں وہ مشکل ہو سکتا ہے لیکن تاریخ ہمیں اس پر عمل نہ کرنے کے نتائج سے خبردار کر رہی ہے۔"

جمعہ کو اسرائیل کی جانب سے غزہ میں شدید زمینی کارروائی شروع کرنے کے ایک گھنٹہ بعد اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اراکین نے غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تؤقف کے لیے 122 کے مقابلے میں 14 ووٹ دیئے۔ 55 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

اگرچہ یو این ایس سی کی قراردادیں قانونی طور پر پابند ہیں لیکن اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادیں نہیں ہیں - وہ صرف مختلف اقوام کے مؤقف کی عکاسی کرتی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے اقوامِ متحدہ کی نمائندہ نے یہ بھی کہا کہ ہسپتال اور یو این آر ڈبلیو اے کے اسکول بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ مقامات ہیں اور ان اعلانات سے کہ انہیں خالی کرنے کی ضرورت ہے، انہیں نشانہ بنانا قانوناً جائز نہیں ہو جاتا۔

نسیبہ نے اسرائیلی حکام کی طرف سے فلسطینی ہلالِ احمر اور غزہ کے القدس ہسپتال کو دیے گئے حالیہ انتباہات کا حوالہ دیا جن میں طبی سہولت کو فوراً خالی کر دینے کا مطالبہ کیا گیا جو 400 مریضوں اور تقریباً 14,000 بے گھر فلسطینی شہریوں کی رہائش گاہ کا کام دے رہی ہے۔

اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے والا ایک فلسطینی شخص اور اس کا بیٹا 23 اکتوبر 2023 کو غزہ شہر کے شفا ہسپتال میں فرش پر بیٹھے ہیں۔ (رائٹرز)
اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے والا ایک فلسطینی شخص اور اس کا بیٹا 23 اکتوبر 2023 کو غزہ شہر کے شفا ہسپتال میں فرش پر بیٹھے ہیں۔ (رائٹرز)

فلسطینی میڈیا کے مطابق پیر کو اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ شہر کے الشفاء اور القدس ہسپتالوں کے قریب کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیل نے کہا کہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے میں 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ فلسطینی وزارتِ صحت نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جوابی حملوں کے آغاز کے بعد سے غزہ کی پٹی میں 8000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔

مغربی کنارے میں بڑھتا ہوا تشدد

نسیبہ نے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جاری بمباری کے درمیان مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد میں اضافے پر بھی روشنی ڈالی اور صحت کی نگہداشت اور یو این آر ڈبلیو اے کی سہولیات پر بڑھتے ہوئے حملوں کی مذمت کی۔

مغربی کنارے میں حالیہ ہفتوں میں کشیدگی عروج پر رہی ہے۔ پناہ گزینوں کے کیمپوں پر اسرائیلی چھاپوں اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور آباد کاروں کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔

7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملہ کرنے کے بعد کشیدگی پھیل گئی جس کے بعد غزہ کی پٹی کو نہ رکنے والے فضائی حملوں اور بمباری کا سامنا کرنا پڑا۔

مسلح افراد اور شہری 25 اکتوبر 2023 کو ان تین فلسطینیوں کے جنازے میں شریک ہیں جو اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے کے جینین پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ (رائٹرز)
مسلح افراد اور شہری 25 اکتوبر 2023 کو ان تین فلسطینیوں کے جنازے میں شریک ہیں جو اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے کے جینین پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ (رائٹرز)

فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وافا نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج کی 100 سے زائد گاڑیوں نے پیر کی صبح شمالی مغربی کنارے کے شہر جنین پر چھاپہ مارا جس میں چار فلسطینی ہلاک اور نو زخمی ہو گئے۔

اسرائیلی فوج کی گاڑیوں نے جنین پر چھاپہ مارا جس میں اوور ہیڈ ڈرون سے تمام اطراف میں گولیاں چلائی گئیں جن میں جینین پناہ گزین کیمپ پر میزائل داغے اور ابن سینا ہسپتال کی دیوار کے ایک حصے کو منہدم کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں