غزہ کے لیے امریکہ میں عوامی سطح پر غیرمعمولی عطیات جمع

فلسطین کے لیے فنڈ ریزنگ کے پچھلے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ میں انسانی بنیادوں پر فنڈ ریزنگ کرنے والے گروپوں کی طرف سے بد ترین تباہی سے گذرنے والے اہل غزہ کے لیے فنڈ ریزنگ جاری ہے۔ خصوصاً چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 9 ہزار سے بڑھ چکی ہے، جن میں عورتوں اور بچوں کی تعداد ساٹھ فیصد سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود اسرائیلی محاصرے اور مسلسل بمباری کی وجہ سے غزہ کو بہت محدود امدادی اشیا کی ترسیل کی جارہی ہے۔

غزہ میں شہریوں کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اپنی فنڈ ریزنگ مہم کے دوران اب تک ریکارڈ رقوم جمع کی ہیں۔ امریکہ میں فلسطینی امیرکنز اور دوسرے گروپوں کو ریکارڈ عطیات کا وصول ہونا اس امر کا اظہار ہے کہ امریکہ میں فلسطینیوں کی انسانی بنیادوں پر حمایت اور مدد عوامی سطح پرکس قدر اہمیت دی جاتی ہے۔

غزہ کی پٹی کی آبادی 23 لاکھ افراد پر مشتمل ہے ۔ سویلینز مسلسل اسرائیلی بمباری کے باعث انتہائی ضرورت مندی کے ماحول میں ہیں کہ ان کے گھر بار سب بمباری کی نذر ہو چکے ہیں۔

خوراک ، پانی، ادویات ، کپڑے ، کمبل خیمے یہ سب چیزیں ان کی بدرجہ اتم ضرورت ہیں۔ لیکن رفح کی راہداری کا محدود وقت کے لیے کھلنا ایک اور سنگین مسئلہ ہے کہ اسرائیل نہ صرف اوپر سے مسلسل بمباری کر رہا ہے بلکہ نیچے سے اس کا بد ترین محاصرہ بھی جاری ہے۔

اس جنگ کے آغاز سے پہلے بھی غزہ کی نصف آبادی سخت غربت کا شکار تھی۔ اب جنگ کی تباہی نے ان کی حالت میں ناقابل بیان حد تک سنگینی پیدا کر دی ہے۔

اس صورت حال میں امریکہ میں 'فلسطین چلڈرنز ریلیف فنڈ' کے صدر سٹیو سوسبی نے کہا ' ہم لوگوں کی طرف سے عطیات ملنے میں ایک نمایاں اجافہ دیکھ رہے ہیں۔ عوامی سطح پر 'فنڈ ریزنگ' کے دوران اس سے پہلے ایسا جزبہ کبھی نہیں دیکھا ہے۔'

واضح رہے 'فلسطین چلڈرنز ریلیف فنڈ 'نے گزہ میں 40 ستاف ممبران کےساتھ طبی امداد کا اہتما کر رکھا ہے۔ اس ادارے کا عمومی سالانہ بجٹ 12 ملین ڈالر ہوتا ہے۔ فنڈ کے صدر کے بقول اب سرف دس دنوں کے دوران 15 ملین ڈالر کے فنڈزمل چکے ہیں۔ '

تاہم انہوں نے کہا ' امدادری سرگرمیوں کو غزہ تک جاری رکھنے میں بہت سی سیاسی اور مواصلاتی مشکلات کا سامنا ہے۔ غزہ تک امدادی سامان لے جانے والے ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگی ہوتی ہیں مگر آگے داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔'

'انیرا ' نامی امدادی تنظیم کے چیف ڈویلپمنٹ آفیسر ڈیرک میڈسین نے کہا ' حال ہی میں انہوں نے ایک صاحب نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہمارے ادارے کو اتنی بڑی رقم عطیہ کی ہے کہ پچھلے پچپن برسوں کے دوران کسی ایک فرد نے اتنی بڑی رقم نہیں دی تھی۔'

فلسطین ایڈ سوسائٹی کی نیشنل ڈائریکٹر رابعہ شفیع نے کہا ان کا گروپ طلبہ و طالبات اور مسلم گروپس سے اپیل کر رہا ہے کہ غزہ میں لوگوں اپنی انتہائی بنیادی ضرورتوں کے لیے فنڈز کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں