بولیویا نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے

کولمبیا نے اپنے سفیر واپس بلا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بولیویا نے کل منگل کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا، جس کا اعلان اس کے نائب وزیر خارجہ فریڈی ممانی نے کل دارالحکومت لا پاس میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ فیصلہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت میں کیا گیا ہے کیونکہ اسرائیل غزہ کی پٹی پرجارحانہ، غیر متناسب اور جنگ کے بین الاقوامی اصلوں سے انحراف کرتے ہوئے کارروائیاں کررہا ہے۔ اسرائیل کی ان کارروائیوں سے خطے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے‘‘۔

کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کولمبیا کی طرف سے بھی کیا گیا ہے۔ کولمبیا نے کل کو منگل کو تل ابیب سے اپنے سفیر کو "غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی فوج کی طرف سے کیے جانے والے قتل عام" پر مشاورت کے لیےواپس بلا لیا ہے۔

کولمبیا کے صدر گسٹاو پیٹرو نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ کے ذریعے ایک ٹویٹ میں کہا کہ "میں نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر اسرائیل فلسطینی عوام کے خلاف قتل عام بند نہیں کرتا تو ہم وہاں نہیں جا سکیں گے"۔ ان کا اشارہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی طرف تھا۔

اسرائیلی حکام نے پیٹرو کے بیانات کو "یہود مخالف" قرار دیتے کولمبیا کے سفیر مارگریٹا منجریز کو احتجاج کے لیے وزارت خارجہ میں طلب کیا۔ کولمبیا کے صدر نے جواب دیا کہ انہوں نے تل ابیب کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کرنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔

بولیویا کے صدر لوئیس آرس سے گذشتہ پیر کو بولیویا میں فلسطینی سفیر محمود العلوانی سے ملاقات کی تھی، جس میں انہوں نے غزہ کے باشندوں کے خلاف اسرائیل کی طرف سے کیے جانے والے "جنگی جرائم" کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا۔ اس پر انہوں نے کہا تھا کہ "ہم خاموش نہیں رہ سکتے اور فلسطینیوں کے مصائب کی اجازت نہیں دے سکتے‘‘۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بولیویا نے اسرائیل سے تعلقات منقطع کیے ہوں۔2009 میں سابق صدر ایوو مورالس نے غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف حملوں کے سلسلے میں احتجاج کرتے ہوئے انہیں منقطع کیا تھا۔انھوں نے اسرائیل کو دہشت گرد ریاست مانتے ہوئے ویزا فری امیگریشن منسوخ کر دی تھی۔ نومبر 2019 ء میں بولیویا کی عبوری حکومت نے تعلقات کو معمول کے مطابق بحال کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں