بھارت میں فلسطینی پرچم لہرانے پر چار افراد گرفتار

پرچم کرکٹ سٹیڈیم میں پاک بنگلہ دیش میچ کے دوران سٹیڈم میں لہرائے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت میں چار شہریوں کو کرکٹ ورلڈ کپ کے میچ کے دوران فلسطین کے حق میں بینرز اور فلسطینی پرچم لہرانے پر حراست میں لے کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے میچ کے دوران سٹیڈیم میں پیش آیا ۔ جب کچھ لوگ فلسطین کے حق میں بینروں اور پرچموں کے ساتھ دیکھے گئے تھے۔

پچھلے سال فیفا ورلڈ کپ 2022 کے دوران قطر میں بھی ایسے بہت سے عرب نوجوانوں نے فلسطین کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔ عرب نوجوان 'فلسطینی کاز' کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے تھے، مگر قطرپولیس نے انہیں گرفتار نہیں کیا تھا۔

البتہ بھارتی بحریہ کے آٹھ ریٹائرڈ افسروں اور اہلکاروں کو قطر میں جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنائے جانے پر آج کل بھارت قطر سے نالاں ہے، غالباً اس لیے بھی بھارت نے ایک جیسے واقعے کے باوجود قطر سے مختلف رد عمل ظاہر کیا ہے۔

واضح رہے پہلے کینیڈا اور اب قطر میں بھارتی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی اس طرح کی جاسوسی میں بدنامی کے واقعے نے بھارت کے بارے میں عالمی سطح پر کئی سوال کھڑے کر دیے تھے۔

بھارت جنوبی ایشیا کا واحد ملک ہے جو اسرائیل کی غزہ میں فلسطینیوں پر بد ترین بمباری کے باوجود اسرائیل کی حمایت میں کھڑا ہے۔ اسی لیے اس نے بھارتی سٹیڈیم میں فلسطینی عربوں کا پرچم اور ان کے حق میں بینر لہرانے پر گرفتاریاں کیں ۔

حراست میں لیے جانے والے چار افراد سٹیڈیم کے گیٹ نمبر 6 اور بلاک جی 1 کے ساتھ کھڑے تھے، یہ بات میدان پولیس تھانے میں ایک پولیس افسر نے بتائی ہے۔ تاہم بعد ازاں ملنے والی اطلاعات کے مطابق زیر حراست لیے گئے ان فلسطین کے حامی بھارتی شہریوں کو کچھ ہی دیر میں رہائی مل گئی۔

معلوم ہوا ہے کہ ان پرچم لہرانے والے افراد کا تعلق جھاڑ کھنڈ اور کولکتہ سے ہے۔ پولیس کے افسر نے اطیمنان ظاہر کیا کہ ان چاروں افراد میں سے کسی نے بھی فلسطین کے حق میں یا اسرائیل کے خلاف نعرے بازی نہیں کی۔ وہ صرف خاموشی سے پرچم لہرا رہے تھے۔

کولکتہ پولیس کے مطابق چاروں افراد کی عمریں بیس پچیس سال کے قریب تھیں اور وہ اسرائیل کی غزہ پر بمباری کے خلاف احتجاجاً ایسا کر رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں