فلسطین اسرائیل تنازع

شرقِ اوسط کی جنگ میں شدت، اقوامِ متحدہ کو تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے منگل کو کہا کہ وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعے سے "سخت پریشان" ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی نے اس معاملے پر منقسم سلامتی کونسل سے کارروائی کرنے کی اپیل کی۔

15 رکنی کونسل نے چار مسودات کو مسترد کرتے ہوئے شرقِ اوسط میں تین ہفتے سے جاری جنگ پر کوئی قرارداد منظور نہیں کی۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ بڑھتی ہوئی لڑائی میں "اسرائیل کی دفاعی افواج کی زمینی کارروائیوں کے ساتھ شدید فضائی حملے اور غزہ سے اسرائیل کی طرف مسلسل راکٹ داغنا شامل ہے۔"

انہوں نے اپنے بیان میں کہا، "شروع سے ہی موجودہ لڑائی کا خمیازہ شہریوں نے اٹھایا ہے۔"

"میں 7 اکتوبر کو حماس کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی اپنی مکمل مذمت کو دہراتا ہوں۔ شہریوں کے قتل، زخمی اور اغوا ہونے کا کبھی کوئی جواز نہیں بنتا۔ میں حماس کے ہاتھوں یرغمالی شہریوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کی اپیل کرتا ہوں۔"

"میں غزہ میں شہریوں کے قتل کی مذمت کرتا ہوں اور مجھے ان رپورٹس سے مایوسی ہوئی ہے کہ ہلاک شدگان میں دو تہائی خواتین اور بچے ہیں۔"

گوٹیریس نے "غزہ سے آگے ایک خطرناک فوجی کشیدگی کے خطرے کے بارے میں" بھی اپنے خدشات کو نمایاں کیا۔

جب منگل کو شدید لڑائی ہوئی تو اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر جنگ بندی کی حمایت کرے۔

فلیپو گرانڈی نے نیویارک میں سلامتی کونسل کو بتایا، "انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کم از کم موت کے اس مرغولے کو روک سکتی ہے اور مجھے امید ہے کہ آپ اپنی تقسیم پر قابو پا لیں گے اور ایک مطالبہ کرنے کے لیے اپنا اختیار استعمال کریں گے۔"

گرانڈی نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ غزہ میں مدد لانا سب سے اہم انسانی مقصد تھا۔

انہوں نے کہا۔ "فلسطینی غزہ چھوڑنا نہیں چاہتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ غزہ میں امداد آئے اور یہی ترجیح ہونی چاہیے۔"

سلامتی کونسل کے مسودے کے کچھ متن کو امریکہ نے بلاک کر دیا ہے کیونکہ ان میں اسرائیل کے حقِ دفاع کا ذکر نہیں تھا جبکہ ایک کو روس اور چین نے خاص طور پر اس لیے روکا تھا کہ اس میں جنگ بندی کا واضح مطالبہ نہیں تھا۔

اسرائیل نے اپنی تاریخ کے سب سے خونریز حملے کا سامنا کرنے کے بعد غزہ پر اب تک کی شدید ترین فوجی مہم کا آغاز کیا جب 7 اکتوبر کو اسرائیلی حکام کے مطابق حماس کے مسلح افراد نے سرحد پار سے وحشیانہ حملے میں تقریباً 1,400 افراد کو ہلاک کر دیا۔

اسرائیلی جنگی طیاروں نے منگل کو غزہ پر مسلسل حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جہاں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت نے کہا کہ کم از کم 8525 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 3500 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں