مصر۔۔ اسرائیل کے خفیہ منصوبے کے سامنے ڈٹ گیا

صحرائے سینا کے ایک ایک ذرے پر لاکھوں جانیں قربان کر دیں۔ وزیر اعظم مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصری وزیر اعظم نے ایک غیر معمولی انداز میں خبردار کر دیا ہے کہ ان کا ملک صحرائے سینا کے ایک ایک ذرے کے لیے لاکھوں جانیں قربان کرنے کو تیار ہے تاہم مصری سرزمین پر فلسطینیوں کو دھکیلنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔

وزیر اعظم مصر نے اس امر کا اظہار صحرائے سینا میں مصری علاقے العریش کے دورے کے موقع پر اسرائیلی خفیہ ادارے کی ان رپورٹس کے سامنے آنے کے بعد کیا ہے جن میں اسرائیلی حکومت کو تجویز کیا گیا ہے کہ غزہ کے فلسطینیوں کو مصر کے صحرائے سینا کی طرف دھکیل دیا جائے۔'

اسرائیلی خفیہ ادارے کی اس رپورٹ بارے انکشاف چند دن پہلے سامنے آیا ہے۔ تاہم مصری وزیر اعظم مصطفیٰ مدبولی نے دوٹوک انداز میں واضح کر دیا ہے کہ 'مصر علاقائی مسئلے کے حل کی قیمت مصر ادا نہیں کرے گا۔ '

مصطفیٰ مدبولی العریش میں خطاب کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ اس موقع پر بڑی تعداد میں سرکاری حکام اور عمائدین موجود تھے۔

واضح رہے اسرائیل کے فلسطینیوں کو صحرائے سینا کی طرف جبری طور پر منتقل کرنے کے منصوبے کی اطلاعات کی مذمت فلسطینی بھی کر چکے ہیں اور اس معاملے نے اسرائیل و مصر کے درمیان کشیدگی کی صورت پیدا کر دی ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے خفیہ ادارے کے تیار کردہ منصوبے کو نمایاں طور پر زیر بحث لانے سے گریز کیا ہے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ اس طرح کے اسرائیلی منصوبے نے مصر کے اس دیرینہ خوف کو گہرا کر دیا ہے کہ 'اسرائیل غزہ اور اس کے رہنے والے فلسطینیوں کو مصر کا مسئلہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔'

13 اکتوبر کو سامنے آنے والی اسرائیل کی قدرے خفیہ دستاویز 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی جنگ کے محض چند دن بعد ایک مقامی ویب سائٹ پر شائع بھی ہو جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ فلسطینی شہریوں کو غزہ سے جبری طور پر بے دخل کر کے مصر کی طرف دھکیلنے کا اسرائیلی منصوبہ پہلے سے موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں