غزہ اجتماعی قبر میں تبدیل ہو رہا ہے: انجلینا جولی

جبالیہ کیمپ کی ایک تصویر کی اشاعت کے ساتھ عالمی شہرت یافتہ فنکارہ کے جذباتی تاثرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چند روز قبل فلسطینی عوام کے ساتھ پیش آنے والے المناک واقعات پر تنقید کرنے کے بعد بین الاقوامی اسٹار انجلینا جولی نے غزہ کی پٹی کے مکینوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی مذمت کا اعادہ کیا اور اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جبالیہ مہاجر کیمپ کے قتل عام کی تصویر بھی شیئر کی۔

اسرائیلی حملے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی کے علاوہ سینکڑوں شہری مارے گئے ہیں۔

انہوں نے لکھا، ’’یہ ایک محصور آبادی پر جان بوجھ کر بمباری ہے جس میں بھاگنے کی جگہ نہیں ہے۔‘‘غزہ تقریباً دو دہائیوں سے ایک کھلی جیل ہے اور تیزی سے اجتماعی قبر بنتا جا رہا ہے۔

اس نے مزید لکھا ’’کہ مرنے والوں میں 40 فیصد معصوم بچے ہیں، اور پورے پورے خاندان مارے جا رہے ہیں، جب کہ وہ دنیا بھر کی حکومتوں کے تعاون کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ لاکھوں فلسطینی شہری جن میں بچے، خواتین اور خاندان شامل ہیں، اجتماعی تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔ جبکہ وہ خوراک، ادویات اور انسانی امداد سے محروم ہیں، جو کہ بین الاقوامی قانون کے منافی ہے، انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے مطالبے سے انکار اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی دخل اندازہ سے روکا جا رہا ہے۔‘‘

دونوں فریقوں کے رہنما جنگ بندی نہ کر کے جنگی جرائم کر رہے ہیں۔

غزہ میں وزارت داخلہ نے کہا کہ جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی بمباری کے متاثرین کی ابتدائی تعداد کا تخمینہ لگ بھگ 400 کے قریب لگایا گیا اور زخمیوں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔

حماس کے حملے پر تبصرہ

چند روز قبل انجلینا نے اسرائیل اور حماس کے درمیان نئی لڑائی پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تحریک کا سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ "غزہ میں شہری آبادی پر بمباری کے نتیجے میں معصوم جانوں کے ضیاع کا جواز نہیں بنتا"۔

اس نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لکھا: "ان کے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں، خوراک یا پانی تک رسائی نہیں، بے دخلی کا کوئی امکان نہیں، اور پناہ کی تلاش میں سرحدیں عبور کرنے کا انسانی حق بھی میسر نہیں ہے۔"

اس نے یہ بھی کہا کہ "اس کی توجہ تشدد سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی جانب ہے،"

"غزہ میں بیس لاکھ سے زیادہ لوگ رہتے ہیں، جن میں سے آدھے بچے ہیں، جو تقریباً 20 سالوں سے شدید محاصرے میں ہیں۔

آسکر ایوارڈ یافتہ اسٹار نے اپنے پیغام کو جاری رکھتے ہوئے کہا، "غزہ میں داخل ہونے والے چند امدادی ٹرک اس کی ضرورت کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں، اور بمباری ہر روز نئی انسانی ضروریات کی متقاضی ہے۔ کسی کو امداد، ایندھن اور پانی سے محروم ہونا اجتماعی سزا ہے۔."

انجلینا اپنے پیغام کے اختتام میں لکھتی ہیں ’’آخر ایسی کون سی چیز ہے جو مزید شہری ہلاکتوں کو روک سکتی ہے، جان بچانے کے لیے کیا جانا چاہیے۔ میں نے، بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح، طبی امدادی سرگرمیوں کے لیے عطیہ کیا ہے۔ میں نے ڈاکٹرز ودھ آؤٹ بارڈر نامی تنظیم کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کی پیروی کر رہی ہوں۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں