نیو یارک، یونیورسٹی سٹوڈنٹ سوشل میڈیا پر یہود مخالف دھمکیوں کے باعث گرفتار

امریکی تعلیمی اداروں فلسطینی بچوں کے حق میں اور یہود مخالف لہر'وائٹ ہاوس' کے لیے ' الارمنگ ' قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیل کی غزہ پر جاری بد ترین بمباری کے خلاف دنیا بھر کی طرح امریکہ میں بھی انسانی بنیادوں پر فلسطینیوں کے حق میں ابھری آوازوں میں اب شدت پیدا ہو گئی ہے۔

امریکہ سمیت مغربی دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو جہاں غزہ میں بے گناہ فلسطینی شہریوں اور بچوں کے ہزاروں کی تعداد میں ہلاکتوں کے خلاف احتجاج سامنے نہیں آیا۔

جوبائیڈن انتظامیہ نے امریکہ میں اس احتجاج کی بڑھتی ہوئی آواز کو روکنے کے لیے کثیر جہتی اقدامات کی تیاری شروع کر دی ہے کیونکہ امریکی سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں غزہ پر بمباری کو روکنے کا مطالبہ ایک طرح سے عوامی مطالبے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

وائٹ ہاوس اس صورت حال کو یہود مخالفت کے حوالے سے ' الارمنگ ' سمجھتا ہے۔ کیونکہ ہارورڈ یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کے علاوہ اساتذہ میں بھی اس بارے میں ایسی آوازیں اجتماعی احتجاجی صورت میں سامنے آئی ہیں جو امریکہ کے سرکاری موقف اور اقدامات کے بر عکس ہیں۔

اس تناظر میں یہود مخالف واقعات کو روکنے کے لیے امریکی انتظامیہ نے 'قانیونی راستہ' لیتے ہوئے طلبہ کے خلاف یہود مخالفت کے مقدمہ شروع کر دیے ہیں۔ 21 سالہ نوجوان پیٹرک ڈائے ایک یونیوررسٹی سٹوڈنٹ ہیں۔ انہیں اسی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے انہوں نے مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر یہودیوں کے لیے موت کی دھمکیاں دی ہیں۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق 21 سالہ طالبعلم نے دھمکی دی ہے کہ وہ 104 ویسٹ جائے گا اور ' حلال گوشت' کے لیے مختص ڈائننگ ہال کو نشانہ بنائے گا۔ واضح رہے اس حلال مرکز پر عام طور پر زیادہ یہودی طلبہ کھانا کھاتے ہیں۔ اس سے متصل ہی یہودی مرکز کورنیل سنٹر ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق کورنیل یونیورسٹی نیویارک کے اس طالبعلم نے کیمپس میں یہودی مردوں کو چاقو سے نشانہ بنانے اور ان کے گلے کاٹ دینے کی بھی دھمکی دی ہے۔ جبکہ یہودیوں عورتوں کو' ریپ' کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اسی طرح یہودی بچوں کے گلے کاٹ دے گا۔ '

کسی امریکی شہری کا غزہ میں اب تک تقریباً چار ہزار سے تھوڑے کم ہلاک کیے جا چکے بچوں اور ہزاروں ہی کی تعداد میں بمباری اور فوجی بلاکیڈ کے نتیجے ہلاک کر دی گئی عورتوں کے تکلیف دہ واقعات کے بعد سخت ترین رد عمل ایک دھمکی کی صورت سامنے آیا ہے۔

تاہم امریکی انتظامیہ نے اسے سختی سے روکنے کا اہتمام کر لیا ہے۔ واضح رہے پیر ہی کے روز وائٹ ہاوس کے ایک ذمہ دار نے کہہ دیا تھا ' جوبائیڈن انتظامیہ سکولوں میں یہود مخالفت واقعات کو روکنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ '

ادھر کونیل کی انتظامیہ نے بھی جوبائیڈن انتظامیہ کے ساتھ پورا تعاون کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ ' کورنیل کی انتظامیہ نے غزہ میں ہزاروں بچوں کی ہلاکت کے بعد اسی تناظر میں کہا ہے کہ یونیورسٹی کے اندر ایسا رد عمل سامنے آنے اور دھمکیاں دیے جانے پر کہا ہے کہ 'وہ اس دھمکی کے دیے جانے پر سخت صدمے میں ہے۔ اس لیے سمجھتی ہے کہ دھمکی قتل کی دھمکی دینے والے کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاناچاہیے۔ '

دوسری جانب طلبہ و طالبات اور اساتذہ میں اس بارے میں حیرت ظاہر کی جاتی ہے کہ ایک جانب محض احتجاج اور دھمکی آمیز لہجے امریکی انتظامیہ کے لیے قابل برداشت نہیں جبکہ ہزاروں فلسطینی بچوں اور بڑوں پر مسلسل بمباری پر حمایت جاری ہے۔

کورنیل یونیورسٹی کے نائب صدر جوئیل ایم ملینا نے منگل کے روز ایک بیان میں اسی سلسلے میں کہا ' پولیس کیمپس کے اندر تحفظ کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے موجود رہے گی۔'

دوسری جانب وائٹ ہاوس نے سات اکتوبر کے بعد سے امریکی سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں یہود مخالف واقعات کے بارے میں کوئی اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں۔

لیکن مشرق وسطیٰ میں جاری تصادم سے کیمسز میں یہود مخالف ایک گرم بحث شروع کر دی ہے۔' ہارورڈ ، سٹینفورڈ اور نیویارک یونیورسٹی میں طلبہ ، اساتذہ اور انتظامیہ کے درمیان تلخ جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔ اب آن لائن بحثیں وائرل ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر یہود مخالف اور اسلامو فوبیا کے بینات اور دھمکیاں جاری ہیں۔

یقیناً امریکی تعلیمی اداروں اور نئی نسل میں یہود مخالف جذبات کا اس طرح شدت اور وسعت پکڑلینا اور اسلامو فوبیا کے کیسز میں اضافہ امریکی انتظامیہ کے لیے ' الارمنگ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں