فلسطین اسرائیل تنازع

"تھائی لینڈ نے یرغمالیوں کے معاملے پر ایران میں حماس کے ساتھ براہِ راست بات چیت کی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تھائی وفد کے سربراہ نے کہا کہ تھائی حکام نے گذشتہ ہفتے ایران میں مملکت کے 22 شہریوں کی قسمت کے حوالے سے حماس کے ساتھ براہِ راست بات چیت کی جو اسرائیل پر حملے میں فلسطینی عسکریت پسند گروپ کے ہاتھوں یرغمال بنا لیے گئے تھے۔

اریپین اتراسین نے بدھ کو بنکاک میں صحافیوں کو بتایا کہ مذاکرات کاروں نے 26 اکتوبر کو تہران میں حماس کے عہدیداروں سے ملاقات کی اور انہون نے مذاکرات کاروں سے یہ عہد کیا کہ تھائی باشندوں کو "صحیح وقت" پر رہا کر دیا جائے گا۔

اسرائیلی حکام کا بیان ہے کہ غزہ کی پٹی سے حماس کی طرف سے 7 اکتوبر کو شروع کیے گئے حملے میں 1,400 افراد جن میں سے اکثر عام شہری تھے، ہلاک ہوئے اور 230 سے زیادہ یرغمال بنا لیے گئے۔

اس کے جواب میں اسرائیلی فوج نے غزہ پر شدید گولہ باری کی ہے جہاں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق غزہ کے 8,700 سے زیادہ شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

تھائی پارلیمنٹ کے اسپیکر کی جانب سے مقرر کردہ تین رکنی ٹیم کی قیادت کرنے والے ایریپین نے کہا کہ انہوں نے ایران میں حماس کے عہدیداروں کے ساتھ دو گھنٹے کی میٹنگ کی۔

انہوں نے کہا۔ "میں نے ان سے کہا کہ وہ انہیں (یرغمالیوں کو) رہا کر دیں کیونکہ وہ بے قصور ہیں۔ انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ وہ ان کی بخوبی نگہداشت کر رہے ہیں لیکن وہ مجھے ان کی رہائی کی تاریخ نہیں بتا سکے۔ وہ صحیح وقت کا انتظار کر رہے تھے۔"

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے بعد تھائی ٹیم کے افراد – جو تمام مسلمان ہیں - نے حماس کے نمائندوں کے ساتھ نماز ادا کی۔

اریپن نے کہا، "انہوں نے ہمارے خدشات کو تسلیم کیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ تھائی لینڈ نے مسلم کمیونٹی کے لیے مہربانی اور فوائد کی پیشکش کی ہے۔ وہ تھائی لینڈ کا احترام کرتے ہیں۔"

تھائی وزیرِ اعظم سریتھا تھاویسین نے کہا ہے کہ ان کی حکومت یرغمالیوں کو وطن واپس لانے کے لیے سخت محنت کر رہی ہے اور ان کے وزیرِ خارجہ نے اس ہفتے قطر اور مصر میں بات چیت کی۔

قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا کہ خلیجی ریاست صورتِ حال کی "پیچیدگی" کے باوجود یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔

سریتھا نے بدھ کو دیر گئے اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو سے فون پر بات کی۔

سریتھا نے کہا۔ "انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ فوری طور پر تھائی یرغمالیوں کی مدد کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔"

نیتن یاہو کے دفتر نے فون کال کے بعد کہا کہ انہوں نے سریتھا کو یقین دلایا ہے کہ "اسرائیل تمام یرغمالیوں کو رہا کروانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔"

مملکت کی وزارتِ محنت کے مطابق اسرائیل میں تقریباً 30,000 تھائی باشندے کام کر رہے ہیں جن میں سے زیادہ تر زراعت کے شعبے میں ہیں۔

اس تنازعہ میں بتیس تھائی شہری ہلاک اور 19 زخمی ہو چکے ہیں اور مملکت نے اپنے 7000 سے زیادہ شہریوں کو وطن واپسی کی پروازوں کے ذریعے اسرائیل سے نکال لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں