کینسر میں مبتلا مریضوں کو ترکیہ نےغزہ سے لے جانے کا اعلان کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکیہ نے غزہ میں کینسر ہسپتال کی بندش کے بعد علاج سے ہونے والے مریضوں کو اپنے ہاں لے جانے کا اعلان کیا ہے۔ غزہ کا واحد کینسر ہسپتال بھی ترکیہ ہی کے تعاون سے فلسطین ترکیہ دوستی ہسپتال کے نام سے خدمات انجام دے رہا تھا۔

لیکن پانی بجلی اور ایندھن سمیت ہر قسم کی ادویات اور طبی آلات کی مسلسل عدم فراہمی کی وجہ سے انتظامیہ کو بند کرنا پڑا ہے۔ اسرائیل کے بد ترین محاصرے کی وجہ سے انسانی زندگی کی ہر چیز غزہ سے غائب ہے جبکہ خوراک ، ادویات اور ایندھن سمیت جو بھی چیزیں ذخیرہ کے طور پر محفوظ تھیں وہ ختم ہو گئیں یا مسلسل بمباری کی وجہ سے ہزاروں مکانات کے ملبے کا حصہ بن چکی ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں موجود اب تک تقریباً نصف ہسپتال بند ہو چکے ہیں، ان میں سے کئی اسرائیلی بمباری کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں ۔

ترکیہ کے وزیر صحت فخرتین کوکا نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ ' اگر ضروری رابطہ کاری ممکن ہو جائے تو ترکیہ کینسر کے مریضوں کو اپنے ہاں لے جا کر علاج کی سہولیات دینے کو تیار ہے۔'

ہم غزہ میں کینسر کے ان تمام مریضوں کو اپنے ہاں ہر طرح کی سہولیات دینے کو تیار ہیں جنہیں اسرائیلی جبر اور بمباری نے علاج سے محفوظ کر دیا۔'

واضح رہے فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں کینسر کے 2000 مریض ہیں۔ تاہم اکلوتے کینسر ہسپتال میں 80 کے قریب مریض زیر علاج تھے۔

اس سے پہلے ترکیہ نے غزہ کے زخمیوں کے لیے 200 ٹن کا طبی و امدادی سامان اور مصر بھجوایا ہے۔ غزہ پراسرائیل کی مسلسل بمباری کی وجہ سے ترکیہ کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی سخت کشیدہ ہو گئے ہیں۔

ترکیہ کے ان مریضوں کے لیے اس ہمدردانہ اعلان سے قبل متحدہ عرب امارات نے 1000 زخمی فلسطینی بچوں کو علاج کی سہولیات دینے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم عرب امارات کی طرف سے یہ واضح نہیں کیا گیا یہ زخمی بچے غزہ کی پٹی سے نکل کر ہسپتالوں تک کیسے اور کب پہنچیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں