فلسطین اسرائیل تنازع

آئرش وزیرِاعظم نےغزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کو بدترین انتقام قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آئرلینڈ کے وزیرِ اعظم لیو وراڈکر نے جمعہ کے روز غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کو "انتقام کے قریب پہنچ جانے والے" عمل کے طور پر بیان کیا ہے جو یورپی یونین کی کسی رکن ریاست کے رہنما کی طرف سے اسرائیل پر سخت ترین تنقید ہے۔

غزہ کے صحت کے حکام کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جنوبی اسرائیل پر حماس کے عسکریت پسندوں کے مہلک حملوں کے جواب میں 2.3 ملین افراد پر حملے کے بعد سے اب تک غزہ میں کم از کم 9,061 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ریاستی ریڈیو آر ٹی ای کے ذریعے نشر ہونے والے تبصروں کے مطابق وراڈکر نے جنوبی کوریا کے دورے کے دوران صحافیوں کو بتایا، "میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ۔۔ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے، حماس کے پیچھے جانے کا حق ہے تاکہ وہ دوبارہ ایسا نہ کر سکیں۔"

وراڈکر نے کہا۔ "میں اس وقت جو کچھ سامنے آتا دیکھ رہا ہوں وہ صرف اپنا دفاع نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے انتقام سے ملتا جلتا کچھ قریب آ رہا ہے۔"

انہوں نے کہا، "یہ وہ جگہ نہیں ہے جہاں ہمیں ہونا چاہئے۔ اور مجھے نہیں لگتا کہ اس طرح اسرائیل مستقبل کی آزادی اور مستقبل کی سلامتی کی ضمانت دے گا۔"

ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا اسرائیل کے اقدامات جنگی جرائم ہیں، ورادکر نے کہا، "اس کا تعین میری ذمہ داری نہیں۔"

اسرائیل کا اصرار ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے اندر کام کر رہا ہے اور اس کے حملوں کا مقصد حماس کو تباہ کرنا ہے جو شہری آبادی میں کام کرتی ہے۔

غزہ کی جنگ نے یورپی یونین کے اندر خارجہ پالیسی پر ارکان کی تقسیم کو نمایاں کیا ہے۔

فرانس، نیدرلینڈز، اسپین، پرتگال، بیلجیئم اور آئرلینڈ جیسے ممالک نے انسانی بنیادوں پر تنازعہ میں وقفے کے لیے اقوامِ متحدہ کے مطالبات کی تائید کی ہے۔

لیکن جرمنی، جمہوریہ چیک اور آسٹریا جیسے دیگر ممالک نے اس دلیل کی بنا پر مزاحمت کی ہے کہ ایسا کوئی اقدام اسرائیل کے ذاتی دفاع کی صلاحیت کو مسدود کر سکتا ہے اور سفارت کاروں کے مطابق حماس کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔

آئرلینڈ روایتی طور پر فلسطینیوں کے حوالے سے اسرائیلی پالیسیوں کے مغربی یورپ کے سخت ترین ناقدین میں سے ایک رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں