غزہ میں ایندھن اور امداد کے لیے 12 گھنٹے کی جنگ بندی کی تجویز

انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عارضی جنگ بندی کی سفارتی کوششیں تیز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل اور حماس کی ہفتوں سے جاری جنگ میں انسانی بنیادوں پر وقفے کے لیے امریکی اور عرب ثالثوں نے کوششیں تیز کردی ہیں جب کہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے بھی لڑائی کچھ وقت کے لیے روکنے کی تجویز دی ہے۔

خبر رساں ادارے "ایسو سی ایٹڈ پریس" کے مطابق ان سفارتی کوششوں کا مقصد حماس کے زیر انتظام غزہ پر نافذ اسرائیل کی ناکہ بندی میں کمی لانا اور لڑائی میں وقفے کے دوران عام شہریوں تک انسانی ہمدردی سے امداد پہنچانا ہے۔

حماس کے سات اکتوبر کے اسرائیل پر حملے میں 1400 ہلاکتوں کے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری سے اے پی کے مطابق فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 9000 سے تجاوز کر چکی ہے۔

صدر جو بائیڈن نے بدھ کی رات کہا تھا کہ ان کے خیال میں اسرائیل اور حماس کی جنگ میں انسانی بنیادوں پر "وقفہ " ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات ایک انتخابی تقریر میں کہی جہاں مظاہرین کی جانب سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بائیڈن نے کہا، "مجھے لگتا ہے کہ ہمیں وقفہ دینے کی ضرورت ہے۔

اسرائیل نے فوری طور پر صدر بائیڈن کے بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنگ بندی کے مطالبات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

امریکہ کے وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن جمعرات کو شروع ہونے والے مشرق وسطی کے اپنے دوسرے دورے میں عرب رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

خیال رہے کہ واشنگٹن نے اسرائیل کے لیے غیر متزلزل حمایت کا وعدہ کیا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ پر حماس کی حکمرانی کو ختم کرنے اور اس کی عسکری صلاحیتوں کو کچلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے عہدہ داروں کا کہنا ہے کہ لڑائی میں وقفہ مزید امداد بھیجنے اور حماس کے قبضے سے یرغمالیوں کی رہائی میں ممکنہ طور پر سہولت فراہم کرے گا۔

عرب ممالک میں، جن میں امریکہ کے اتحادی اور اسرائیل کے ساتھ پر امن تعلقات رکھنے والی ریاستیں بھی شامل ہیں، جنگ کے جاری رہنے سے بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں