اسرائیل کی ہٹ دھرمی: ترکی نے مشاورت کے لیے تل ابیب سے اپنا سفیر واپس بلا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کی وزارت خارجہ نے ہفتے کو کہا ہے کہ انسانی بحران اور غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں کی وجہ سے انقرہ نے مشاورت کے لیے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔

ترکیہ کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکیہ کے تل ابیب میں سفیر تورنلر کو اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فلسطینی شہریوں پر مسلسل بمباری، جنگ بندی سے انکار اور انسانی امداد کو غزہ میں پہنچنے سے روکے جانے اور غزہ میں انسانی المیہ جنمہ لینے کے پیش نظر واپس بلایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ترکیہ میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ترکیہ میں موجود اسرائیلی سفارت کاروں نے وزارت خارجہ کی جانب سے واپس بلائے جانے سے قبل ہی ملک چھوڑ دیا تھا۔

اسرائیل اور حماس کی جنگ سے پہلے ترکیہ کئی سالوں کی تلخی کے بعد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہا تھا۔ تاہم ایردوآن نے مزید کہا کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نومبر کے آخر میں ترکیہ کا دورہ کریں گے اور وہ رواں ماہ ریاض میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے جس میں غزہ میں جنگ بندی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ اس بات کو یقینی بنانے کے کسی بھی اقدام کی حمایت کرے گا کہ اسرائیل کو جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے اور ایسا کرنے میں ناکامی عالمی نظام پر اعتماد کو ختم کر دے گی۔

رائٹرز کے مطابق گذشتہ ماہ ترکی میں فلسطینیوں کی حمایت میں ملک گیر مظاہرے شروع ہونے کے بعد اسرائیلی سفیر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

بعد ازاں اسرائیل نے کہا کہ اس نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینے کے لیے اپنے سفیروں کو واپس بلایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں