اقوام متحدہ کے سربراہ غزہ ایمبولینس قافلے پر اسرائیلی حملے سے 'دہشت زدہ'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا کہ وہ غزہ میں ایمبولینسوں کے قافلے پر اسرائیلی فورسز کے حملے سے "دہشت زدہ" ہو گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنازعہ کو "بہرصورت رک جانا" چاہیے۔

فلسطینی ہلالِ احمر سوسائٹی نے کہا ہے کہ اس کی ایک ایمبولینس غزہ شہر میں ہسپتال کے داخلی دروازے سے صرف چند فٹ کے فاصلے پر "اسرائیلی فورسز کی طرف سے داغے گئے میزائل" کا نشانہ بن گئی۔ اس حملے میں کہا گیا کہ 15 افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوئے۔

انتونیو گوٹیرس نے بیان میں کہا، "میں غزہ میں الشفاء ہسپتال کے باہر ایمبولینس کے قافلے پر مبینہ حملے سے دہشت زدہ ہوں۔ ہسپتال کے باہر سڑک پر بکھری لاشوں کی تصویریں دہشت ناک ہیں۔"

جمعے کو حملے کے مقام پر اے ایف پی کے ایک صحافی نے ہسپتال کے باہر تباہ شدہ ایمبولینس کے ساتھ متعدد لاشیں دیکھیں جو اسرائیلی بمباری سے پناہ لینے والے شہریوں اور زخمیوں سے بھری پڑی تھی۔

اسرائیل کی فوج نے کہا کہ اس نے "ایک ایمبولینس پر فضائی حملہ کیا جس کی فورسز نے شناخت کی تھی کہ اسے حماس کے دہشت گرد سیل نے جنگ کے علاقے میں ان کی پوزیشن کے قریب استعمال کیا تھا۔"

اس بات پر اصرار کرتے ہوئے کہ وہ "اسرائیل میں حماس کے دہشت گردانہ حملوں کو نہیں بھولے"، اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے مزید کہا، "تقریباً ایک ماہ سے غزہ میں عام شہریوں بشمول بچوں اور خواتین کو محاصرے میں رکھا گیا، امداد سے انکار کیا گیا، ہلاک کیا گیا اور گھروں پر بمباری کی گئی ہے۔"

انہوں نے جاری رکھا۔ "یہ رکنا چاہیے۔"

انہوں نے کہا غزہ میں انسانی صورتحال "خوفناک" تھی۔

انہوں نے خبردار کیا، وہاں خوراک، پانی اور دوائیاں "تقریباً کافی نہیں" ہیں جبکہ ہسپتالوں اور واٹر پلانٹس کو چلانے کے لیے ایندھن ختم ہو رہا ہے۔

گوٹیرس نے بات جاری رکھی، "غزہ میں اقوامِ متحدہ کی پناہ گاہیں "اپنی پوری صلاحیت سے تقریباً چار گنا زیادہ کام کر رہی ہیں اور بمباری کا نشانہ بن رہی ہیں۔"

انہوں نے کہا۔ "مردہ خانے بھرے پڑے ہیں۔ دکانیں خالی ہیں۔ صفائی کی صورتِ حال ابتر ہے۔ ہم خاص طور پر بچوں میں بیماریوں اور سانس کے امراض میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ پوری آبادی صدمے کا شکار ہے۔ کوئی جگہ محفوظ نہیں۔"

گوٹیرس نے دوبارہ جنگ بندی کا اور 7 اکتوبر کو حماس کے ابتدائی حملے میں یرغمال بنائے گئے افراد کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔

اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ فلسطینی عسکریت پسند گروپ نے اس حملے میں 1,400 سے زائد افراد کو ہلاک کیا، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

اسرائیل نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے غزہ کی پٹی پر شدید بمباری کی جہاں حماس کے زیرِانتظام وزارتِ صحت کے مطابق 9,200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

گوٹیرس نے تمام فریقوں سے دوبارہ بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کرنے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا، "تمام اثر و رسوخ رکھنے والوں کو زور لگانا چاہیے تاکہ جنگ کے اصولوں کے احترام کو یقینی بنایا جائے، مصائب کو ختم کیا جائے اور تنازعات کے پھیلاؤ سے بچا جائے جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں