برطانیہ کی 'ریفرل سکیم' غیر شفاف اور بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہے: ایمنسٹی

'اسلامو فوبیا، یا ذاتی احساس کی بنیاد پرلوگوں کا مستقبل خراب کیا جارہا ہے: سربراہ ایمنسٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے برطانیہ میں انتہا پسندی روکنے کی 'ریفرل سکیم' کو ’گھسے پٹے اور روایتی انداز کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا یہ برطانیہ میں انسانی حقوق کے قوانین اور ذمہ داریوں سے مطابقت نہیں رکھتی ہے۔'

ایمنسٹی کے مطابق جس طرح 'ریفرل سکیم' کو انتہا پسندی اور دہشت گردی سے جوڑا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے یہ خلاف ہے۔'

ایمنسٹی کی 92 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 'اس ریفرل سکیم کے تحت مسلمانوں کو غیر مسلموں کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ تعداد میں ہیلتھ کئیر سیکٹر میں ریفر کیا جاتا ہے۔' رپورٹ کے مطابق یہ اطلاعات برطانوی پولیس سے حاصل کردہ ہیں۔

ایمنسٹی کے مطابق انتہا پسندی سے بچاؤ کے نام پر کی جارہی کوششوں کو اس لیے تنقید کا سامنا کر پڑ رہا ہے اس میں لوگوں کو غلط طریقے سے شناخت کر کے ریفر کر دیا جاتا ہے۔ نیز اس میں تعصب کا پہلو بھی موجود ہوتا ہے۔

واضح رہے برطانیہ میں یہ اختیار اساتذہ، ڈاکٹروں اور سماجی کارکنوں کو دیا گیا ہے کہ وہ ان افراد کی نشاندہی کریں جو انتہا پسندی کے ارتکاب کے قریب ہو سکتے ہیں۔

اہمنسٹی نے اس سلسلے میں 50 کی تعداد میں متعلقہ پروفیشنلز سے ملاقاتوں اور گفتگو کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اکثر پروفیشنلز جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے 'محض اپنے محسوسات کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں کون شخص یا نوجوان انتہا پسندی کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔ '

ایمنسٹی نے اس بارے میں رازداری اور شفافیت کے فقدان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ متعلق لوگ جنہیں برطانیہ میں انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے بروئے کار لایا جا رہا ہے وہ ذمہ دارانہ معاملے سے آگاہ نہیں ہیں۔

برطانیہ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سربراہ سچا دیش مکھ نے کہا 'پریونٹ' کا یہ طریقہ کار انسانی حقوق کو متاثر کر رہا ہے، بشمول آزادی اظہار، آزادی اجتماع ، مساوات وبرابری اور امتیاز سے بالا حقوق سب متاثر ہو رہے ہیں۔'

اس میں شفافیت بھی نہیں ہے، جس کی وجہ سے بہت سے افراد کو سالہا سال تک بعد ازاں مہنگی قانونی لڑائی لڑنا پڑتی ہے۔ کہ وہ اپنے 'ریفرل' کے حوالے سے حقائق جان سکیں۔ حتیٰ کہ معصوم لوگوں کا اس دوران مستقبل اور زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔'

ایمنسٹی کی رپورٹ میں ایک 14 سالہ مسلمان زین کے 'ریفرل' کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے 'اسے محض اس لیے انتہا پسندی سے بچاؤ سکیم 'پریونٹ ' کے لیے بھیج دیا گیا کہ اس نے اپنے سکول میں مذاق کےانداز میں یہ کہہ دیا تھا کہ اسے لگتا ہے یہ عمارت آگ کی وجہ سے گر جائے گی۔ اس نے یہ بات از راہ مذاق اس وقت کہی جب سکول میں 'فائر ڈرل 'کی کلاس ہو رہی تھی۔

چھ ہفتے بعد سکول کے ایک اور طالبعلم نے زین کی اسی بات کو بنیاد بنا کر شکایت کر دی 'زین سکول کی عمارت کو اساتذہ سمیت آگ لگانا چاہتا ہے۔' زین نے اپنی ڈیڑھ ماہ پہلے کہی بات کو مذاق کہا کہ وہ زیادہ 'ہوم ورک' اور سختیوں سے تنگ آیا ہوا تھا،' مگر اسے 'پریونٹ' کے تحت ریفر کر دیا گیا۔

اس کی والدہ یاسمین نے کہا استانی نے میرے بیٹے کی طرف دیکھا کہ وہ ایک بھورے رنگ والا اور مسلمان ہے تو اسے 'ریفر' کر دیا۔' استانی نے اس سلسلے میں کوئی ثبوت نہیں دیا کہ زین انتہا پسند ہے۔ صرف تعصب کی وجہ سے میرے بیٹے کو مسلمان ہونے کی سز ادے دی گئی۔'

ایک اور واقعے میں 30 سالہ مسلمان استاد جس کانام عرفان ہے کو بھی اسی طرح 'ریفر' کر دیا گیا کہ اس کے مینجر نے اس کے بارے میں شکایت کی تھی۔ ٹیچر عرفان کو اسلامو فوبیا کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اسے دہشت گرد کہا گیا تھا۔ عرفان کے خلاف بھی کوئی ثبوت نہیں تھا۔ عرفان نے ایمنسٹی کو بتایا۔ مگر بعد ازاں اسے اپنی ملازمت چھوڑنی پڑی۔

دیش مکھ کے مطابق اس نوعیت کے واقعات کا انفرادی سطح پر اور ان کے خاندانوں پر سخت منفی اور برا اثر ہو رہا ہے۔ ایسے لوگوں کا مستقبل اور زندگی تباہ کر دیا جاتی ہے ۔ محض کسی ایک پروفیشنل کے محسوسات کی بنیاد پر، جس کے پاس اس کے علاوہ کوئی ثبوت یا شہادت نہیں ہوتی کہ 'اسے ایسا لگتا ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں