دار فور میں حالات خراب ہو رہے، خواتین کے اغوا کیا جارہا: اقوام متحدہ

انسانی حقوق کے دفتر کو جنسی تشدد کے 50 سے زیادہ واقعات کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مغربی سوڈان کے علاقے دارفور میں حالات روز بروز خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں خواتین اور لڑکیوں کو اغوا کیا جا رہا ہے اور انہیں غلامی جیسے حالات میں رکھا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق سوڈانی فوج کے کمانڈر عبدالفتاح البرہان کی افواج اور لیفٹیننٹ جنرل محمد حمدان دقلو کی قیادت میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جنگ میں اپریل سے اب تک 9000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان الزبتھ تھروسیل نے کہا ہمیں دارفور میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں میں خواتین اور لڑکیوں کے اغوا اور ان کو غلامی کے مترادف غیر انسانی اور ذلت آمیز حالات میں رکھنے کی اطلاعات پر گہری تشویش ہے۔ سوڈان میں جنگ کی وجہ سے 50 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوکر پناہ گزین ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا زندہ بچ جانے والوں، گواہوں اور دیگر ذرائع سے ملنے والی قابل اعتماد معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ 20 سے زیادہ خواتین اور لڑکیوں کو اغوا کیا گیا تھا لیکن یہ تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔ کچھ ذرائع نے خواتین اور لڑکیوں کو پک اپ ٹرکوں اور کاروں میں زنجیروں میں جکڑے ہوئے دیکھنے کی اطلاع دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوڈان میں انسانی حقوق کے مشترکہ دفتر کو تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کے 50 سے زیادہ واقعات کی قابل اعتماد رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔ ان واقعات میں کم از کم 105 متاثرین متاثر ہوئے ہیں۔ ان متاثرین میں 86 خواتین، ایک مرد اور 18 بچے شامل ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ ان میں سے 23 واقعات عصمت دری، 26 گینگ ریپ اور تین ریپ کی کوشش کے تھے۔

ریکارڈ کیے گئے جنسی تشدد کے کم از کم 70 فیصد تصدیق شدہ واقعات آر ایس ایف کے یونیفارم میں ملبوب مردوں سے منسوب تھے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے تنازع کے دونوں اطراف کے سینئر حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی افواج کو واضح اور فوری ہدایات جاری کریں جس میں انہیں باور کرایا جائے کہ جنسی تشدد سے متعلق زیرو ٹالرنس برتی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں