غزہ پر فرانس کی بین الاقوامی کانفرنس نو نومبر کو ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل اور حماس کے درمیان تقریباً ایک ماہ پر محیط ہو چکی جنگ میں اسرائیل کا پہلے روز سے ساتھ دینے والے مغربی ممالک میں سے ایک فرانس نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی آبادی کو دی جانے والی اب تک کے امدادی سامان کے بارے میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔ نیز مزید امدای ضروریات اور مالی وسائل کی فراہمی بھی ایجنڈے پر ہے۔

دوسری جانب فرانس نے بھی امریکی طیارہ بردار جہازوں کے بعد اپنا ہیلی کاپٹر بردار جہاز اسرائیل سے متصل سمندر میں بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کانفرنس کی طرح ان ہیلی کاپٹروں کا کام امدادی نوعیت کا ہو گا۔ خصوصاً طبی شعبے میں مدد دینے کے لیے متحرک ہوں گے۔ اس سلسلے میں اسرائیل اور مصر سے بات ہو چکی ہے۔

نو نومبر کو منعقد ہونے والی اس امکانی کانفرنس میں مختلف ملکوں کے ریاستی سربراہان، حکومتی سربراہان اور حکومتی نمائندے شرکت کریں گے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے بھی اس بین الاقوامی کانفرنس کی رپورٹرز سے بات چیت میں تصدیق کر دی ہے۔

کانفرنس میں خطے کے 'سٹیک ہولڈرز' مصر، اردن، خلیجی ممالک، مغربی یورپ کے ممالک اور گروپ 20 کے رکن ممالک کو بطور خاص دعوت دی جائے گی۔ بین الاقوامی فورمز اور تنظیمیں جنہیں دعوت دی جا رہی ان اقوام متحدہ، عرب لیگ اور غیر حکومتی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

فرانس کی طرف سے سامنے لائی گئی معلومات کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کو بھی اس شریک کیا جائے گا۔ لیکن اسرائیل کو ابھی تک دعوت دینے کا طے نہیں کیا گیا ہے۔

خیال رہے اسرائیل کی بالواسطہ نمائندگی کا زیادہ بہتر اہتمام ہو گا، بصورت دیگر اسرائیلی نمائندے کو بعض ممالک کی سخت تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے۔ جس سے بچنا ضروری ہے تاکہ کانفرنس اپنے اہداف سے دور نہ جائے۔

تاہم فرانس کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس کانفرنس میں جو کچھ ہو گا یا جو بھی فیصلے ہوں گے ان سے اسرائیل کو پوری طرح آگاہ کیا جائے گا۔ البتہ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کانفرنس کے دوران بھی اسرائیل کو مانیٹرنگ کی سہولت دی جائے گی یا کانفرنس کی کارروائی سے بعد از کانفرنس ہی بتایا جائے گا۔

معلوم ہوا ہے کہ کانفرنس اقوام متحدہ کی زیر نگرانی مرتب کر دہ اعداد وشمار کو مد نظر رکھتے ہوئے غزہ میں فوری ضرورت کی چیزوں کے لیے وسائل کی فراہمی بھی اپنے ایجنڈے پر رکھے گی۔

نیز اس امر کا سنجیدہ جائزہ لیا جائے گا کہ امدادی سامان کسی بھی طرح حماس کے ہاتھ تو نہیں لگ سکتا۔ یاد رہے اسرائیل نے غزہ کے سولہ سال سے جاری محاصرے کے بعد سات اکتوبر سے اس محاصرے کو ایک مکمل 'لاک ڈاون ' میں تبدیل کر دیا ہے۔

اب پانی، خوراک، ادویہ اور بجلی یا ایندھن کی فراہمی بھی روکی جا چکی ہے۔ تاکہ غزہ کے لوگوں کو سزا دی جا سکے اور حماس کے لوگوں کا پانی تک بند کیا جا سکے۔

فرانس کے زیر اہتمام اس مجوزہ بین الاقوامی کانفرنس میں بھی انہیں خطوط کو واضح کھا جائے گا کہ امدادی سامان حماس تک نہ پہنچ پائے۔ کیونکہ مانیٹرنگ سخت نہ کی گئی تو حماس تک پانی اور خوراک یا ادویات اور ایندھن وغیرہ کی فراہمی کا راستہ کھل سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں