نیتن یاہو سے گفتگو خارج از امکان ہے: صدر ترکیہ رجب طیب ایردوآن

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اپنے عوام کی حمایت سے محروم ہو چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کی وجہ سے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے رابطہ ختم کر دیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ترکیہ میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ رجب طیب ایردوآن نے سنیچر کو کہا کہ ’نیتن یاہو سے ہم بات نہیں کریں گے۔ ان سے بات چیت خارج از امکان ہے۔‘

ترکیہ کے صدر کے بیان سے ایک ہفتہ قبل اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ انقرہ سے اپنے تعلقات کا ’دوبارہ سے جائزہ‘لے رہا ہے کیونکہ اسرائیل اور حماس کی جنگ کے حوالے سے ترکیہ کے بیانات کافی جارحانہ ہیں۔

اسرائیل ترکیہ سمیت دوسرے علاقائی ممالک سے سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے اپنے سفارت کاروں کو بھی واپس بلا چکا ہے۔

گذشتہ مہینے سات اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق تقریباً 14 سو افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت شہریوں کی تھی اور 240 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا۔

حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیلی فورسز نے غزہ کے سب سے بڑے شہر کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور وہ حماس کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی طیاروں کی بمباری اور زمینی کارروائی کے نتیجے میں اب تک نو ہزار 400 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

رجب طیب ایردوآن کا کہنا تھا کہ ترکیہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم نہیں کر رہا۔ ’تعلقات کو مکمل طور پر منقطع کرنا ممکن نہیں ہے، خاص طور پر بین الاقوامی سفارت کاری میں۔‘

ایردوآن کے مطابق ایم آئی ٹی اینٹلیجنس کے چیف ابراهيم كالين ترکیہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی کوشش اور ثالثی کے لیے معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔’ابراهيم كالين اسرائیل سے بات کر رہے ہیں، وہ فلسطین اور حماس سے بھی مذاکرات کر رہے ہیں۔‘

تاہم ترکیہ کے صدر کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو تشدد کے بنیادی ذمہ دار ہیں اور وہ ’اپنے عوام کی حمایت سے محروم ہو چکے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ ایک قدم پیچھے ہٹیں، اور یہ سب روک دیں۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں